menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qissa Nasbiyat Ke Ehtesab Ka

116 0
11.10.2026

قصہ ناصبیت کے احتساب کا

پون صدی قبل قبلہ محمود احمد عباسی نے رافضیت کا احتساب کرتے ہوئے "خلافت معاویہ و یزید" لکھ ماری تھی۔۔ اس احتساب نے اہل علم و قلم میں تھرتھلی مچا دی۔۔ عباسی صاحب نے اوائل اسلام کی تاریخی شخصیات کو فضائل و مناقب سے جدا کرکے خالصتا ایک مؤرخ کی نظر سے دیکھا۔۔ ان کی یہ نگاہ کسی کو ہضم نہ ہو پائی۔۔

بڑا شور مچا۔۔ اہل قلم نے مچانیں سنبھالی۔۔

خطیبوں نے زبانوں کی باگ ڈھیلی کی۔۔ ادیبوں نے الفاظ کی میگزینز قلم میں لوڈ کیں۔۔ مفتیوں نے فتوے کے لانچر چلائے۔۔

اور جو ان میں کسی کھاتے میں نہیں آتے تھے۔۔ انھوں نے محمود عباسی کو یزید یزید کہنا شروع کر دیا۔۔

مگر اپنے وقت کے سب سے بڑے انشاء پرداز جو حرف چنتا، انھیں فکر کی خراد پر چڑھاتا۔۔ پھر حروف کے پرزے قلم میں بھر کر شاہکار تخلیق کرتا۔۔ اس انشاء پرداز کا قلم حرکت میں آیا۔۔ حرکت بھی کیسی۔۔ ترجمان القرآن لکھنے والا۔۔ تفھیم القرآن لکھنے والا قلم۔۔ تفھیمات کو جنم دینے والا قلم۔۔ تنقیحات جیسے مشکل موضوعات کو اگلنے والا قلم آخر کار احتساب ناصبیت کرنے نکل پڑا۔۔

اور پھر دنیا نے اس قلم سے نکلی "خلافت و ملوکیت" پڑھی۔۔ پھر سب بدل گیا۔۔ عباسی و مودودی آمنے سامنے تھے۔۔ "خلافت معاویہ و یزید" اور خلافت و ملوکیت آمنے سامنے تھیں۔۔ مگر مودودی کے قلم کے آگے کون ٹک سکے۔۔ اس کے قلم میں طاقت ہی اتنی تھی کہ پٹھان کوٹ کے دارالاسلام سے نکل کر اچھرا تک راستے میں اسے کوئی روک نہ پائی تھی۔۔ اچھرا سے مصر کے اخوان المسلمین کی کمین گاہوں تک پہنچا۔۔ کوئی مارکسسٹ، کوئی دانشور، کوئی فلسفی اس کی قلم کی دھار کے آگے نہ ٹک پایا۔۔

اختلاف کرنے والا بھی سمجھ نہ پائے کہ اختلاف کروں یا اظہار بیان کا اقرار۔۔ ان سب کے سر پر مودودی صاحب کی لکھی خلافت و ملوکیت نے بم وجا دیا اور اس کی شدت اتنی تھی محمود عباسی غائب ہو گئے۔۔

اب مودودی تھے۔۔ ان کی لکھی کتاب تھی۔۔ دیوبند کے ملاں تھے۔۔ سلفیوں کے مفتی تھے اور........

© Daily Urdu