menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hashtag Irani Awam Ko Azad Karo Ki Original Kahani

19 15
17.01.2026

ڈجیٹل دنیا میں کون سا بیانیہ ابھرے گا اور کون سا دبایا جائے گا۔ اس کی ڈیزائننگ بند کمروں میں بیٹھے ماہرین کرتے ہیں اور پھر اسے طفیلی اکاؤنٹس اور چیٹ بوٹس کی مدد سے سوشل میڈیا پر سیلابی شکل میں کچھ ایسے چھوڑا جاتا ہے گویا لاکھوں لوگ اس بیانئیے کے حامی اور حصے دار ہوں۔ یوں ناہموار فضا کو اپنے حق میں ہموار کرنے کا دھندہ چلتا ہے۔ اسے کہتے ہیں دماغ کنٹرول کرنے کی سائنس۔

تین روز قبل الجزیرہ کی ویب سائٹ پر حالیہ ایرانی بے چینی کے تناظر میں ایک چشم کشا انویسٹیگیٹو رپورٹ شائع ہوئی۔ اس رپورٹ میں ایلون مسک کے پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر ہیش ٹیگ " فری دی پرشین پیپل " ٹرینڈ کا جائزہ لیا گیا۔ اس ٹرینڈ کے سائے میں جنوری کے پہلے ہفتے میں ایسی پوسٹوں کا سیلاب تخلیق کیا گیا گویا یہ ایرانی تاریخ کی فیصلہ کن گھڑی ہے۔ تاثر یہ دیا گیا کہ یہ پوسٹیں ایران کے اندر سے آنے والی آوازیں ہیں۔

جب اس مہم کا سورس ٹریک کیا گیا تو بیشتر پوسٹوں کی کہانی مختلف نکلی۔ مہم کا حصہ اکثر ایکس اکاؤنٹس کے لنکس اور ڈانڈے اسرائیل یا پھر اسرائیل نواز حلقوں سے جا ملے۔ مینوفیکچرڈ بیانئیے کا ایکو چیمبر بنانے کا مقصد ایران کے دگرگوں حالات و واقعات کو ایک خاص مفاداتی جیو پولٹیکل سمت کی جانب لے جانا تھا۔ الجزیرہ کی سوشل میڈیا انویسٹیگیشن ٹیم نے ہیش ٹیگ " فری دی پرشین پیپل " کی چھتری تلے پھیلنے والی بے شمار پوسٹوں میں سے بطور سیمپل چار ہزار تین سو پوسٹوں کا ڈجیٹل پوسٹمارٹم کیا۔ یہ پوسٹیں اٹھارہ ملین صارفین تک پہنچیں۔ مگر ان میں سے صرف چھ فیصد یعنی ایک سو ستر........

© Daily Urdu