Kya Machine Insan Ke Dard Ko Samajh Sakti Hai
کیا مشین انسان کے درد کو سمجھ سکتی ہے
یہ 1747کی بات ہے۔ ہالینڈ میں ایک کتاب چھپتی ہے جس کا عنوان ہوتا ہے"انسان ایک مشین ہے"۔ چند مہینوں میں یہ کتاب سرِعام جلا دی گئی۔ مصنف ژولیاں دی لامتری، جان بچا کر ہالینڈ سے نکل بھاگتا ہے۔ اُس کا جرم صرف اتنا تھا کہ اُس نے لکھ دیا: انسان کے اندر کوئی روح نہیں، بس پرزے ہیں۔ دل ایک پمپ، دماغ ایک پرزہ اور جذبات محض کیمیائی حرکت ہیں۔ اُس زمانے میں یہ بات لوگوں کو اتنی خوفناک لگی کہ کتاب کو آگ کے حوالے کر دیا گیا۔ پونے تین سو سال گزر گئے ہیں اور آج ہم اُسی کتاب کی کہی باتوں پر عمل کر رہے ہیں۔ دیکھو، لامتری کا خواب اب کاغذ پر نہیں رہا۔ دو ہزار چوبیس میں ایک نوجوان، جس کا دھڑ مفلوج تھا، صرف سوچ کر کمپیوٹر کا کرسر ہلانے لگا۔ اُس کی کھوپڑی میں ایک سکے جتنی "نیورالنک" چپ نصب تھی۔ اُس چپ کے بنانے والوں کا اگلا خواب اور بھی بڑا ہے۔ ایک ایسا آلہ جو دماغ کے "نیورو ٹرانسمیٹر" یعنی ڈوپامین، سیروٹونن کی سطح براہِ راست پڑھے اور ضرورت پڑنے پر دماغ کے کسی حصے کو دبا دے یا اُبھار دے۔ نتیجہ؟ ڈپریشن کا بٹن آف۔ گھبراہٹ کا بٹن آف۔ اداسی کو ایک "سیٹنگ" کی طرح گھٹا دو یا پھر مٹادو۔
کاؤنسلنگ اب مشین دے رہی ہے۔ ماہرین نفسیات کا کام روبوٹس کرنے لگے ہیں۔ 2025ء میں ڈارٹماؤتھ یونیورسٹی نے دو سو دس افراد پر پہلا باقاعدہ........
