Pakistan, Istehkam Ki Talash Mein Aik Nazuk Mor Par
پاکستان، استحکام کی تلاش میں ایک نازک موڑ
پاکستان اس وقت سیاسی، معاشی اور سماجی اعتبار سے ایک ایسے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ہر فیصلہ مستقبل کی سمت متعین کر سکتا ہے۔ بظاہر بعض معاشی اشاریے بہتری کی نشاندہی کر رہے ہیں، مگر زمینی حقائق اب بھی عام شہری کے لیے اطمینان بخش نہیں۔ ایک طرف حکومت معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور ترقیاتی اہداف کی بات کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے بحران، سیاسی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات عوام کی روزمرہ زندگی پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ یہی تضاد پاکستان کے موجودہ حالات کو سمجھنے کا بنیادی نقطہ ہے۔
معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو مالی سال 2025-26 کے اختتام پر حکومت نے مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں تقریباً 3.7 فیصد اضافے، مالیاتی خسارے میں کمی اور بعض شعبوں میں بہتری کا دعویٰ کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں میں محدود مگر مثبت پیش رفت ہوئی ہے جبکہ محصولات میں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم دوسری جانب توانائی کی قیمتوں، درآمدی لاگت اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ نے مہنگائی کے دباؤ کو برقرار رکھا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ میکرو اکنامک اشاریے نسبتاً بہتر ہوئے ہیں، لیکن عام شہری کی قوتِ خرید میں خاطر........
