Aik Aur Ehtejaj Raste Mein Hai
ایک اور احتجاج رستے میں ہے
پی ٹی آئی پر کریک ڈاؤن جاری ہے۔ خاندان، ممبران و کارکنان سب تھری ایم پی او کے تحت اُٹھائے جا رہے ہیں۔ آپٹیکس اچھے نہیں ہیں۔ صورتحال اس نہج پر پہنچانے میں پی ٹی آئی کے اندرون جاری کشمکش اور دھڑے بندی کا زیادہ ہاتھ ہے، رہی سہی کسر موجودہ ریجیم پوری کر رہی ہے۔ اس صورتحال کے ادراک واسطے اس کے روٹ کاز میں جانا ضروری ہے۔
بیرسٹر گوہر، راجہ ناصر اور اچکزئی صاحب کے لیے بات چیت کا چینل کھُلا تھا۔ ان سب کی محسن نقوی سے متعدد خفیہ ملاقاتیں ہوئیں، پیغام رسانی ہوئی، حکومتی حلقوں سے بھی بات چیت جاری رہی۔ فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ کم از کم خان صاحب کو علاج کی غرض سے ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ کچھ سہولت کا سلسلہ بن سکے اور ملاقاتیں بحال ہوں۔ یہ ایک انڈرسٹینڈنگ ڈویلپ ہوئی تھی جو آگے چل کر لانگ ٹرم انڈرسٹینڈنگ میں بدل سکتی ہے۔ جس میں بشریٰ بی بی کو سہولیات دینا یا ان کو بنی گالہ منتقل کرکے گھر کو سب جیل قرار دینا وغیرہ شامل تھا اور پھر وقت کے ساتھ خان صاحب کا رویہ جانچتے ہوئے ان کی جانب بھی دھیان مرکوز کیا جا سکتا تھا۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی میں خان صاحب کا ایکس اکاؤنٹ خاموش ہوا اور لگ بھگ چھ ماہ تک خاموش رہا۔ یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے مریم نواز کے گولے برساتے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو ایک سال کے لیے چُپ لگ گئی تھی اور پھر کہیں جا کر معاملات درست ہونا شروع ہوئے تھے۔
فریقین میں یہ انڈرسٹینڈنگ ڈویلپ ہو چکی تھی۔ عدلیہ کے راستے راستہ نکالا جانا تھا تاکہ کوئی فریق خود کو چیمپئین نہ کہلوا سکے۔ عدالت میں حکومتی وکیل نے خان صاحب کی اسپتال منتقلی کو چیلنج نہیں کیا........
