Social Media Hamein Istemal Kar Raha Hai
سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ موبائل ہاتھ میں آتے ہی انگلی سیدھی ایک مخصوص ایپ پر کیوں چلی جاتی ہے؟ نہ کوئی خاص ضرورت ہوتی ہے، نہ کوئی ہنگامی خبر ہوتی ہے بس ایک عادت سی بن چکی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک پورا ڈیجیٹل نظام ہمیں استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ یہ بات تسلیم کرنا تھوڑا مشکل ہے لیکن ذرا ٹھنڈے دل سے اپنے روزمرہ معمول پر نظر ڈالیں۔ اوسطاً دنیا بھر میں لوگ روزانہ دو سے اڑھائی گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔ نوجوانوں میں یہ وقت تین سے چار گھنٹے اور اب اس سے بھی کہیں آگے تک پہنچ چکا ہے۔ سال کے حساب سے یہ تقریباً ایک مہینہ بنتا ہے یعنی ہم اوسطا ایک پورا ماہ دن رات صرف سکرین پر ہوتے ہیں۔
انسانی دماغ تقریباً چھیاسی ارب اعصابی خلیات پر مشتمل ہے۔ یہی خلیات آپس میں جڑ کر کھربوں رابطے بناتے ہیں اور ہماری عادات تشکیل دیتے ہیں۔ جب ہم کوئی خوشگوار چیز دیکھتے ہیں مثلاً کوئی دلچسپ ویڈیو، لائک یا تعریف تو دماغ میں ایک کیمیائی مادہ خارج ہوتا ہے جسے ڈوپامین کہتے ہیں۔ یہ وہی نظام ہے جو ہمیں کوئی انعام ملنے پر خوشی کا احساس دیتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ڈوپامین بنتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اسی احساس کو بار بار جگانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ مختصر ویڈیوز، نہ ختم ہونے والی سکرولنگ، اچانک آنے والی اطلاع یہ سب ہمارے اعصابی نظام کو چھیڑنے کے طریقے ہیں۔
آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ جب آپ ٹک ٹاک یا انسٹاگرام کھولتے ہیں تو ایک ویڈیو ختم ہوتے ہی دوسری شروع ہو جاتی ہے۔ سکرین نیچے کی طرف کھسکاتے جائیں اور مواد........
