Ai Ki Sard Jang, America China Madd e Muqabil
اے آئی کی سرد جنگ، امریکا چین مدمقابل
دنیا اس وقت نئی عالمی دوڑ کے درمیان کھڑی ہے۔ یہ دوڑ نہ تو ایٹمی ہتھیاروں کی ہے اور نہ ہی روایتی فوجی طاقت کی بلکہ یہ مقابلہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت کا ہے۔ اس میدان میں بنیادی طور پر دو بڑی طاقتیں آمنے سامنے ہیں جن میں سے ایک امریکا اور دوسری طاقت چین ہے۔
گزشتہ چند برس میں مصنوعی ذہانت نے معیشت، صنعت، دفاع، تعلیم اور روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اسے مستقبل کی سب سے اہم ٹیکنالوجی سمجھ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جس ملک نے مصنوعی ذہانت میں برتری حاصل کر لی وہ آئندہ کئی دہائیوں تک عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی قیادت کر سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا اس میدان میں نسبتاً پہلے داخل ہوا اور اسے اب بھی تکنیکی برتری حاصل ہے۔ دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مثلاً اوپن اے آئی، مائیکرو سافٹ اور این ویڈیا اسی ملک میں قائم ہیں۔ یہ کمپنیاں جدید مصنوعی ذہانت کے نظام، بڑے لینگوئج ماڈل اور جدید کمپیوٹر چپس تیار کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر این ویڈیا کے بنائے گئے گرافکس پروسیسر چپس اس وقت دنیا کے زیادہ تر اے آئی سسٹم کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف 2024 اور 2025 کے دوران امریکا کی بڑی ٹیک کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت کی تحقیق اور ترقی پر ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ خرچ کیا ہے۔
اسی طرح دنیا کے بڑے تحقیقی ادارے اور یونیورسٹیاں بھی امریکا میں........
