menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Lahu Rang Petrol Aur Sisakti Zindagi

20 0
08.04.2026

لہو رنگ پیٹرول اور سسکتی زندگی

امریکہ اسرائیل اور ایران کے مابین بڑھتے ہوئے تصادم کے سائے جس تیزی سے گہرے ہو رہے ہیں اس نے عالمی معیشت کے اعصاب کو بُری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور خاص طور پر بحیرہ ہرمز کی بندش کے منڈلاتے ہوئے خطرات نے خام تیل کی منڈیوں میں ایک ہیجان برپا کر دیا ہے جس کے اثرات پاکستان اور اس کے گرد و نواح میں بسنے والے ممالک پر بھی نہایت شدت سے ظاہر ہو رہے ہیں۔

اگر ہم اپنے ہمسایہ ممالک کی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ سے سات فیصد تک کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ چین جیسا بڑا صنعتی ملک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر منحصر ہے وہاں بھی قیمتوں میں فی لیٹر کئی یوآن کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسی طرح افغانستان میں لاجسٹک اخراجات اور عالمی منڈی کے دباو کے باعث قیمتیں دس فیصد سے بھی زیادہ تجاوز کر چکی ہیں اور عمان جیسے خلیجی ریاستوں میں بھی عالمی لہر کے زیر اثر قیمتوں میں چار فیصد تک کا ردو بدل دیکھا گیا ہے جبکہ ایران خود تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود جنگی تناو اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث داخلی سطح پر معاشی عدم استحکام کا شکار نظر آتا ہے۔ اس جنگ کی جہ سے نہ صرف مشرق بلکہ مغرب بھی پریشان ہے تیس فیصد تیل کی ترسیل کا راستہ اس وقت مکمل بند ہو چکا ہے جس سے دنیا کے کاروبار تیز ہوا میں چراغ کی مانند ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا مسلسل اضافہ صرف ایک معاشی اعداد........

© Daily Urdu