Ilm Ka Wo Chiragh Jo Sirf Kitab Khane Mein Nahi Jalta
علم کا وہ چراغ جو صرف کتاب خانے میں نہیں جلتا
رابندر ناتھ ٹیگور نے جب بنگال کے ایک گمنام گاؤں میں اپنی خواب گاہِ علم، شانتی نکیتن، کی بنیاد رکھی، تو انہوں نے ایک ایسا اصول اپنایا جو اپنے وقت میں انقلابی سمجھا گیا: یونیورسٹی کوئی الگ تھلگ جزیرہ نہیں ہو سکتی جہاں صرف کتابیں اور اسناد گردش کریں۔ انہوں نے دیہی کاریگروں، مقامی شاعروں، لوک گلوکاروں اور روایتی دستکاروں کو اپنے تعلیمی ادارے کی رگوں کا لازمی خون بنا دیا۔ ان کا مشہور قول آج بھی دنیا بھر کی تعلیمی دستاویزات میں دہرایا جاتا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد محض معلومات کی ترسیل نہیں، بلکہ زندگی کے ساتھ اس کا زندہ اور دھڑکتا رابطہ استوار کرنا ہے۔ یہی وہ فکر ہے جو کسی بھی جامعہ کو ڈگریاں جاری کرنے والے دفتر سے بلند کرکے ایک سانس لیتے ہوئے علمی مرکز میں بدل دیتی ہے۔
اسی فکر کی ایک خاموش، مگر بامعنی جھلک گزشتہ دنوں یونیورسٹی آف گجرات کی قائدِ اعظم لائبریری میں نظر آئی، جب کتبِ سیرت کی نمائش دیکھنے کنجاہ کی ادبی تنظیم "بزمِ غنیمت و شریف کنجاہی" کا ایک باوقار وفد وہاں پہنچا۔ بظاہر یہ ایک مقامی، سادہ سی خبر معلوم ہوتی ہے۔ مگر اگر اسے ذرا غور سے دیکھا جائے، تو یہ اس اصول کی زندہ مثال بن جاتی ہے جس کی بات ٹیگور نے سو برس پہلے کی تھی: کہ جامعات کا اصل فریضہ صرف نصاب پڑھانا نہیں، بلکہ اپنے اردگرد بسنے والے علمی و ادبی حلقوں کو اپنے دامن میں سمیٹنا اور ان کی سرپرستی کرنا بھی ہے۔
وفد کی قیادت کر رہے تھے سینئر ترین استاد شاعر محترم منیر صابری کنجاہی، وہ نام جو کنجاہ سمیت سخنوروں کی بستی کی ادبی فضا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ برسوں تک نسلوں کو شعر و ادب کی تربیت دینے والے اس بزرگ استاد کی موجودگی........
