menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Baar e Amanat: Mashino Ki Sadi Mein Insan Ki Justuju

47 0
13.09.2026

بارِ امانت: مشینوں کی صدی میں انسان کی جستجو

جناب محمد زبیر بظاہر ایک بیوروکریٹ لیکن اندروں صوفیانہ، مزاج درویشانہ اور دماغ مفکرانہ کے دانشورانہ امتزاج کی حامل شخصیت ہیں۔ آج ان کی ایک مختصر تحریر پڑھنے کو ملی جس نے مجھ جیسے کم علم کو بھی اس پر مزید سوچنے اور لکھنے پر مجبور کر دیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ "ٹی ایس ایلیٹ کے ہاں انسان اجڑا ہوا تھا، ہمارے ہاں شاید انسان ہی زائد ہو جائے۔ The Waste Land میں انسان کی اخلاقی اور روحانی شکست کا نوحہ تھا۔ مگر آج شاید ہم ایک ایسی Waste Land کے دروازے پر کھڑے ہیں جہاں سوال یہ نہیں کہ انسان کتنا اخلاقی رہے گا، سوال یہ ہے کہ انسان کتنا متعلق (relevant) رہے گا۔ مصنوعی ذہانت انسانی ذہانت کی قائم مقامی کا دعویٰ کر رہی ہے اور اگر یہ دعویٰ درست ہے تو اس کا انجام انسان کی بے اختیاری بھی ہو سکتا ہے، ایک ایسی دنیا میں جہاں عمارتیں روشن، مشینیں ذہین، نظام بے عیب اور پیداوار بے مثال ہوگی۔ بس انسان مرکز میں نہیں ہوگا"۔

جی ہاں! ایلیٹ کے زمانے کا خوف یہ تھا کہ جنگ کے بعد کی دنیا میں انسان کا جسم تو زندہ بچ گیا مگر روح کہیں پیچھے رہ گئی۔ وہ چلتا ہے، بولتا ہے، مگر اندر سے کھوکھلا ہے، "Hollow Men" اسی احساس کی چیخ تھے:

"We are the hollow men.. Shape without form, shade without colour, Paralysed force, gesture without motion. "

آج کا خوف اس سے مختلف اور کہیں زیادہ بنیادی نوعیت کا ہے۔ یہ خوف نہیں کہ انسان کی روح مر گئی، بلکہ یہ کہ شاید روح کی اب ضرورت ہی باقی نہ رہے۔ جس دنیا میں فیصلہ سازی، تخلیق اور ہمدردی کی نقل تک مشین انجام دے، وہاں انسان کا کردار سکڑ کر محض ایک صارف کا رہ جاتا ہے، ایسا وجود جو پیدا نہیں کرتا بلکہ استعمال کرتا ہے اور بالآخر خود بھی کسی بڑے نظام کے ہاتھوں استعمال ہونے لگتا ہے۔

اس مقام پر قرآن کا وہ منظر یاد آتا ہے جہاں اللہ فرشتوں کو مطلع کرتا ہے کہ زمین پر ایک خلیفہ بھیجا جا رہا ہے۔ فرشتے حیران ہو کر پوچھتے ہیں: "کیا تو زمین میں ایسے کو بسائے گا جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا، جب کہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح اور تقدیس کرتے ہیں؟" یہ سوال آج بھی زندہ ہے، ہر صدی نئے سرے سے اسے دہراتی ہے۔ جواب میں اللہ نے فرشتوں کو کوئی دلیل نہیں دی، بلکہ ایک امتحان لیا، آدم کو اسماء سکھائے گئے اور فرشتوں سے کہا گیا: بتاؤ ان کے نام۔ فرشتوں نے عاجزی سے کہا: "پاک ہے تو، ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے سکھایا"۔ یہ محض الفاظ کا امتحان نہیں تھا۔ اسماء سکھائے جانے کا مطلب تھا کہ انسان کو یہ صلاحیت........

© Daily Urdu