menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khamosh Zameeron Ka Noha

13 0
13.07.2026

اے زمانے کی مصلحتوں کے شکار لوگو۔ اے دیکھتی آنکھوں۔ خاموش زبانوں اور زندہ جسموں میں دفن ضمیروں کے مالک لوگو! تمہارا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ تم سچ سے ناواقف ہو، بلکہ یہ ہے کہ تم سچ کو پہچانتے ہو، اس کی صداقت پر یقین بھی رکھتے ہو مگر اس کے ساتھ کھڑے ہونے کی قیمت ادا کرنے سے ڈرتے ہو تمہارا خوف تمہاری زنجیر بن چکا ہے اور تم نے اسی زنجیر کو عقل تدبر اور مصلحت کا نام دے دیا ہے تمہارا شعور زندہ ہے مگر تمہاری جرأت مر چکی ہے۔

تمہاری غیرت سو چکی ہے تمہارا ضمیر مصلحت کی قبر میں دفن ہو چکا ہے تمہاری زبان سلامت ہے لیکن اس پر خاموشی کے ایسے تالے لگ چکے ہیں جن کی چابی تم نے خود ظالموں کے حوالے کر دی ہے تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ خاموش رہنے سے تم محفوظ رہو گے حالانکہ تاریخ کا سب سے بڑا دھوکہ یہی ہے ظلم کبھی خاموش رہنے والوں کو معاف نہیں کرتا وہ صرف ان کی باری آنے کا انتظار کرتا ہے۔

دنیا میں کسی ظالم نے صرف اپنی طاقت کے بل پر حکومت نہیں کی ہر ظالم کے پیچھے بے شمار خاموش لوگ کھڑے ہوتے ہیں ظلم کی سلطنتیں تلواروں سے کم اور خاموش ضمیروں سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں جب اہلِ شعور اپنی زبانیں بند کر لیتے ہیں تو باطل کو دلیلیں گھڑنے کی ضرورت نہیں رہتی پھر جھوٹ قانون بن جاتا ہے فریب سیاست بن جاتا ہے انصاف تجارت بن جاتا ہے اور ضمیر بازار کی سب سے ارزاں جنس۔

آج اگر تم اپنے گرد و پیش........

© Daily Urdu