Insaniyat Abhi Bhi Zinda Hai
انسانیت ابھی بھی زندہ ہے
دنیا میں انسانوں کی کمی نہیں مگر انسانیت نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ آدمی بڑھتے جا رہے ہیں مگر آدمیت گھٹتی جا رہی ہے چہرے وہی ہیں لباس وہی ہیں زبانیں وہی ہیں مگر دلوں میں رحم کی جگہ مفاد محبت کی جگہ خود غرضی اور انسانیت کی جگہ نفسانی خواہشات نے لے لی ہے۔ کوئی انسان کو لوٹ رہا ہےکوئی انسان پر ظلم کر رہا ہےکوئی حرام کی کمائی سے اپنے بچوں کے لیے محل تعمیر کر رہا ہے اور کوئی حلال کی مزدوری کرکے اپنے بچوں کے لیے ایک وقت کی روٹی کا بندوبست کر رہا ہے۔ کوئی اختیار ملتے ہی کمزور کو کچل دیتا ہے اور کوئی اختیار نہ ہونے کے باوجود کسی پیاسے پرندے کے لیے پانی کا برتن رکھ دیتا ہے انسان سب ہیں مگر انسانیت کسی کسی میں ہے۔
یہ کیسا زمانہ آگیا ہے کہ غریب بھوک سے مر رہا ہے اور امیر دولت کی نمائش میں مصروف ہے۔ ایک طرف ماں اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے اور دوسری طرف چند لوگ ایک شام کی تفریح پر اتنا خرچ کر دیتے ہیں جتنا کسی غریب خاندان کا مہینے بھر کا خرچ ہوتا ہے۔ کہیں ظلم ہے کہیں جبر ہے کہیں استحصال ہےکہیں طاقت کا نشہ ہے جیسے دنیا کا اصول ہی یہ بن گیا ہو طاقت ہے تو حق تمہارا کمزور ہے تو خاموش رہو۔ مگر اسی شور دھوکے اور خود غرضی کے درمیان کبھی کوئی ایسا شخص سامنے آجاتا ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
عراق کے کردستان........
