menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Angrezi Ka Bhoot Aur Hamari Ghulamana Zehniyat

24 0
12.09.2026

انگریزی کا بھوت اور ہماری غلامانہ ذہنیت

ہمیں انگریزی نہیں آتی، مگر انگریزی بولنے کا شوق ہے، ہمیں اپنی بات اردو میں کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہونی چاہیے مگر انگریزی کے دو چار جملے بول کر ہم خود کو ایسا سمجھنے لگتے ہیں جیسے ابھی ابھی آکسفورڈ سے ڈگری لے کر واپس آئے ہوں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں انگریزی نہیں آتی اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں شرم آتی ہے کہ ہمیں انگریزی نہیں آتی۔ یہی احساسِ کمتری ہمیں بار بار ایسے مقامات پر لے جاتا ہے جہاں ہم اپنی زبان، اپنی عزت اور اپنی بات تینوں کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

دنیا کے مہذب معاشروں کو دیکھ لیجیے فرانسیسی اپنی زبان میں فخر محسوس کرتے ہیں جرمن جرمن بولتے ہیں چینی چینی زبان میں دنیا سے بات کرتے ہیں عرب عربی کو اپنے اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں جاپانی اپنی زبان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی بات کرتے ہیں کوئی شخص صرف اس لیے اپنی زبان تبدیل نہیں کرتا کہ سامنے والا اسے زیادہ مہذب سمجھے گا ہم ہیں کہ انگریزی کے چند لفظ یاد کرکے اپنی پوری شخصیت کو ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔ انگریزی ایک زبان ہے، قابلیت کا سرٹیفکیٹ نہیں مگر ہمارے ہاں معاملہ الٹا ہے جسے انگریزی کے چند جملے آ جائیں اسے دانشور سمجھ لیا جاتا ہے اور جو اپنی زبان میں مدلل گفتگو کرے اسے دیہاتی، پسماندہ اور کم تعلیم یافتہ تصور کیا جاتا ہے۔

یہ ذہنی غلامی ہے اور اس غلامی کی سب سے مضحکہ خیز شکل اس وقت سامنے آتی ہے جب ہمارے معزز منتخب نمائندے اسمبلی کے فلور پر ایسی انگریزی بولنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں نہ تلفظ ان کا ساتھ دیتا ہے نہ جملہ نہ معنی اور نہ ہی سامعین گلگت بلتستان اسمبلی ہو یا سندھ اسمبلی سوال یہ ہے کہ منتخب نمائندہ عوام سے بات کر رہا ہے یا اپنی انگریزی کی نمائش کر رہا ہے اگر ایک رکن اسمبلی اپنے حلقے کے لوگوں کی اکثریت کی زبان میں اپنی بات آسانی سے مؤثر انداز میں اور پوری قوت کے ساتھ بیان کرسکتا ہے تو پھر اسے........

© Daily Urdu