menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Rishwat, Monthly Aur Laqanooniat

26 0
12.10.2026

رشوت، منتھلی اور لاقانونیت

نظام کبھی بھی نئے نئے محکمے بنانے سے نہیں بنتا ہے بلکہ ٹھوس قواعد کی تشکیل اور پھر ان قواعد کی پاسداری کرنے والے سرکاری اہلکاروں کی ایمانداری اور اہلیت پر تعمیر ہوتا ہے۔ وطن عزیز میں محکمے اور ادارے تو اتنے ہیں کہ ان کی گنتی کرنا بھی مشکل ہے لیکن رولز اور قوانین کی عملداری کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے۔ گزشتہ روز لاہور کی مشہور ٹولنٹن مارکیٹ میں فوڈ اتھارٹی کے عملہ نے کاروائی کی اور مبینہ طور پر مضر صحت گوشت کی نشاندہی پر چالان شروع ہوئے جس کے بعد کچھ دکانوں کو سیل کردیا گیا۔ اس کاروائی کے نتیجہ میں جھگڑا ہوا جو پھیلتے ہوئے ایک زندگی لے گیا جبکہ کئی افراد گرفتار ہوئے اور پوری مارکیٹ کو غیر اعلانیہ طور پر بند کردیا گیا۔

یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ اس وقت پنجاب میں جس طرح کچھ محکمے زبردستی عوام پر پرچوں اور چالان کی مد میں بھاری جرمانے کررہے ہیں ان کی وجہ سے کاروباری افراد بری طرح سے فرسٹریشن کا شکار ہیں۔ حکومت نے جو قانون کی عملداری کے نام پر فوڈ اتھارٹی، پیرا فورس، اینٹی انکروچمنٹ فورس، سٹی کارپوریشن، انفورسمنٹ فورسز، ایل ڈی اے اور ایکسائز کے محکمے بنائے ہیں ان کے اہلکار خود غیر قانونی سرگرمیوں کو ناصرف تحفظ دیتے ہیں بلکہ منتھلی رشوت لے کر انھیں مضبوط بھی بناتے ہیں۔

ہم اگر ٹولنٹن مارکیٹ کے معاملہ کو ہی دیکھ لیں تو فوڈ اتھارٹی نے مبینہ طور پر جو مردہ مرغیوں کا گوشت پکڑا ہے تو وہ ایک دن کا کھیل نہیں ہوگا بلکہ یہ کاروائی تو جانے کب سے چل رہی ہوگی اور اس کے لئے جانے کس کس نے رشوت وصول کی ہوگی۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ یہ اہلکار اپنا حصہ وصول کررہے ہوتے ہیں اور جب حکومت خود پیسے اکٹھے کرنے کے لئے ان محکموں کو کوئی ٹاسک دیتی ہیں تو پھر بڑے افسر دکانوں کو سیل کرکے لاکھوں روپے کے جرمانے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے عمل سے اکثر وہ دکاندار یا کاروباری افراد طیش........

© Daily Urdu