menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

14 Bachay

46 0
29.08.2026

دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آگ لگی اور چودہ نومولود بچے آگ میں جل کر ہلاک ہوگئے۔ وہ معصوم بچے جنہیں ابھی ان کے والدین نے کوئی نام بھی نہیں دیا تھا اور انھیں نرسری میں اِنتہائی نگہداشت کے لئے رکھا گیا تھا لیکن ان کی نگہداشت تو دور کی بات اس ظالم نظام نے ان کی جان لے لی۔ یہ سارے معصوم چونکہ خود اٹھ کر بھاگ نہیں سکتے تھے چنانچہ بے رحم شعلوں کی زد میں آکر جل گئے۔

یہ آگ کیسے لگی اور اس آگ کو بجھایا کیوں نہیں جا سکا حکمرانوں کے لئے یہ ایک فضول بحث ہے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفٰی کمال نے کہا کہ پمز ہسپتال میں مریضوں کا بڑا رش ہے اور اتنی بڑی تعداد میں مریضوں کا بوجھ یہ اکیلا ہسپتال اٹھا نہیں سکتا ہے اور وزیر اعظم نے بھی سیکرٹری صحت کو معطل کرکے اپنا فرض نبھا دیا ہے۔ اب معاملہ بچتا ہے ان بچوں کے والدین کا جو رو دھو کر خاموش ہوجائیں گے کیونکہ عام آدمی کے لئے یہاں خاموشی ہی بچی ہے۔ آج پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں ہر سال چار لاکھ بچے معمولی بیماریوں سے مرجاتے ہیں۔ یہ وہ چار لاکھ بچے ہیں جنہیں وزیر موصوف کے بقول بچایا جا سکتا ہے لیکن حکومت کے پاس ایسے اقدامات کے لئے نہ وسائل ہیں اور نہ ہی ان کی اس طرف کوئی توجہ ہے۔

میں سوچتا ہوں کہ ہم یہ کس ملک میں رہ رہے ہیں جہاں حکمران کاروبار کرتے ہیں اور کاروبار بھی ایسا کہ عوام کی ہڈیوں کا گودا تک نکال کر بے رحم مافیا کو پالتے ہیں۔ عوام کے خون پسینے کا کمایا گیا سارا پیسہ حکمران اکٹھا کرکے پاور پلانٹس مافیا کی جھولی میں ڈالتے ہیں اور یا پھر پٹرول اور گیس کے سوداگروں کو کھلاتے ہیں۔ ملک میں تعلیم اور صحت کی حالت اتنی پتلی ہے کہ کند ذہنوں کی فوج تیار کرکے ان میں سے بیمار ذہنوں کو اٹھا کر ملک کے سارے اہم ترین عہدوں........

© Daily Urdu