Ishq, Ehsas Aur Ehad (1)
عشق، احساس اور عہد (1)
ایک مسافر برسوں سے ایک ہی راستے پر چل رہا تھا۔ اس راستے کے کنارے ایک درخت تھا، جس کے سائے میں وہ ہر سال کچھ دیر ٹھہرتا، اس کے پھولوں کو دیکھتا اور اس کے پھلوں کا ذائقہ چکھتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس درخت سے اس کی محبت دائمی ہے۔ پھر ایک سال وہ کسی دوسرے خطے میں جا پہنچا، جہاں ایک اور درخت کھڑا تھا۔ اس کے پھول مختلف تھے، خوشبو الگ تھی اور پھل کا ذائقہ پہلے درخت سے بالکل جدا۔
مسافر اس نئے درخت کی خوبصورتی سے بھی متاثر ہوا۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا پہلے درخت سے اس کی محبت جھوٹی تھی، یا دوسرے درخت کی خوبصورتی نے اس کے احساسمیں کوئی نیا باب کھول دیا تھا؟ اور اگر وہ دوسرے درخت سے بھی محبت کرنے لگا تو کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ پہلے درخت سے کبھی محبت کرتا ہی نہیں تھا؟ شاید محبت کے بارے میں ہمارے بہت سے فیصلے اسی مقام پر آ کر غلط ہو جاتے ہیں، جہاں ہم انسانی احساس کی وسعت کو وفاداریکے اپنے محدود تصور میں قید کر دیتے ہیں۔
ہماری تہذیبوں، ادب اور معاشرتی تصورات میں ایک بات بارہا دہرائی گئی ہے کہ محبت اگر سچی ہو تو صرف ایک ہی شخص سے ہوتی ہے۔ ایک ہی محبوب، ایک ہی منزل، ایک ہی وفا اور اگر دل کسی دوسرے کی طرف مائل ہو جائے تو پہلی محبت کو جھوٹا قرار دے دیا جاتا ہے۔ احمد فراز کا یہمشہور شعر اسی تصور کی نمائندگی کرتا ہے: ؎
ہم تو محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں فرازؔ
اک ہی شخص کو محبوب بنا رکھا ہے
یہ شعر اپنی جگہ ایک مکمل رومانوی نظریہ رکھتا ہے۔ اس میں یکسوئی ہے، وابستگی ہے اور محبوب کو اپنی دنیا کا مرکز بنا دینے کا ایک خوبصورت اعلان ہے۔ ایسے عشق کی نفی کرنا ضروری نہیں، کیونکہ کسی ایک انسان کو عمر بھر چاہنا بھی انسانی احساس کی ایک عظیم صورت ہو سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی........
