Hum Insan
انسان جلد باز اور نا شکرا تو ہے ہی۔ مگر ہم انسان بڑے اور بے تکے بول بولنے کے بھی عادی ہیں۔ اندازہ کریں ہمیں خود پر اتنا بھروسہ اور مان ہے کہ محسوس کرتے ہیں گویا ہر شے ہمارے ہی اختیار میں ہے، خود کو عقل کل اور نعمتوں کی عطا کو بھی اپنی ہی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ بولتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ بات منہ سے نکلتے ہی اسے تحریر کرنے والے کندھوں پر براجمان ہیں۔ آپ خود غور کریں کہ ہم اتراہٹ اور شوخ پن کا شکار ہو کر کیسے کیسے مشرکانہ اور قابلِ گرفت الفاظ اور جملے بول جاتے ہیں۔ جن کی سنگینی کا ہمیں احساس ہی نہیں اور جب احساس ہوتا ہے تو ہم پکڑ میں آ چکے ہوتے ہیں۔ پھر گلہ کیا جاتا ہے کہ ہم نے تو کچھ بھی نہیں کہا نا جانے ہمارے ساتھ ہی کیوں برا ہوتا ہے؟
درج ذیل کچھ ایسے جملے ہیں جن کی گرفت میں ہم آ سکتے ہیں۔ لہذا ان سے اجتناب کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔۔ کچھ ایسے جملے جو دین اور معاشرے دونوں لحاظ سے نا مناسب ہیں، آپ کے لیے تحریر کیے ہیں۔
1۔ ہم رخصتی کے وقت یا فون پر بات ختم کرتے ہوئے کہتے ہیں take care اپنا خیال رکھیئے گا (خیال صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ رکھ سکتی ہے ہم کون ہوتے ہیں، خود کا خیال رکھنے والے۔ کہنا چاہئیے اللہ کی امان میں رہیں یا اسی سے ملتا جلتا کوئی اور جملہ)۔
2۔ بڑے پر سکون ہو کر رائے دی جاتی ہے، داڑھی والے پر تو اعتبار ہی نا کریں، یہ بغیر داڑھی والے سے زیادہ فراڈیا ہوتا ہے۔ (جب دھوکا داڑھی والا یا بغیر داڑھی والا بھی دے سکتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں، سنت رسول ﷺ کو اپنانے والے کسی بھی انسان کو برا کہنے والے۔ ہم انجانے میں سنت رسول ﷺ کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ نا ہو کہ روز محشر ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کے........
