menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Misaq e Pakistan

20 0
yesterday

ملک کے معروضی حالات سب کے سامنے ہیں۔ ہر پیچیدگی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ سیاسی نظام، معاشی سست روی، ادارہ جاتی زوال پذیری، عوامی مسائل سے لا تعلقی، یہ سب کچھ اب نہ چھپایا جا سکتا ہے اور نہ چھپایا جا رہا ہے۔ جس سپرپاور کی گود میں ہمارے اکابرین جھولا جھولنے کی کاوش فرما رہے ہیں۔ انھوں نے ہمارے ملک کو، اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ یہاں اپنا کل وقتی سفیر ہی لگا دیں۔

اہل نظر، پریشان ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سوچنا پڑتا ہے، کیا اس خرابے سے واپسی ممکن بھی ہے یا نہیں؟ اکثریت کا بیان ہے کہ شاید اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ دلدل میں پورا ملک اس طرح ڈوبا ہوا ہے کہ بچنے کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ طالب علم کی رائے بالکل مختلف ہے۔ یقین ہے کہ آج بھی ہمارے اکابرین اگر چاہیں تو ایک سے تین برس کی مدت میں ملک کو حددرجہ بہتری کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ یہ رائے نہیں، بلکہ کامل رائے ہے کہ قومیں نشیب سے اونچائی پر گامزن ہو سکتی ہیں۔

جاپان، چین، ساؤتھ کوریا، سنگاپور جیسے متعدد ممالک ہمارے سامنے ہیں۔ جو بربادی کی پاتال تک گئے۔ پھر ان کے پاس حقیقت پسند قائدین آئے جنہوں نے اپنے اپنے ملکوں کو شاداب کردیا۔ یہ کوئی زیادہ دور کی بات نہیں۔ صرف دو چار دہائیوں کا سچا قصہ ہے۔ تاریخ کے جھروکوں میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ آپ کے سامنے، چند خیالات رکھنا چاہتا ہوں جن سے ہمارا مستقبل بہتر ہو سکتا ہے۔

طالب علم آج ایک نیا سیاسی بیانیہ اور حکمت عملی آپ کے سامنے رکھتا ہے۔ جس کا نام ہے "میثاقِ پاکستان"۔ آپ نے میثاق جمہوریت کا نام تو سن رکھا ہے۔ مگر جب اس کے........

© Daily Urdu