Makhdoosh Surat e Haal
ایران پر مسلط کی گئی ہولناک جنگ کو تقریباً ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ہر جانب بربادی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو یہ نہیں معلوم کہ اس تباہی کا دورانیہ کتنا ہوگا۔ امریکی صدر، بذات خود چار سے پانچ ہفتے کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر انھیں کے عسکری کمانڈر، اس اعلان کی نفی کر رہے ہیں۔ غور کیجیے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کے ایماء پر اتنا بڑا قدم کیونکر اٹھا لیا؟ یہ ایسا سوال ہے جس پر پورے امریکا میں مدلل بحث جاری ہے۔ نیتن یاہو، جو کہ بنیادی طور پر غزہ کی جنگ کے بعد، ایک جنگی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ وہ تو طویل عرصے سے، ہر امریکی صدر کو ایران پر یلغار کرنے کا کہہ رہا ہے۔
پھر کیا وجہ ہے کہ پرانے امریکی صدور، اس خونی تمنا کو پورا کرنے سے انکار کرتے رہے۔ مگر ٹرمپ نے نہ صرف ایک جنگی جنونی کی بات مانی، بلکہ اس کی ناجائز خواہش کو پورا کرنے کے لیے، پورے ملک کے وسائل داؤ پر لگا دیئے؟ یہودی شدت پسندوں کی توقع سے بڑھ کرامریکا کی دفاعی ساکھ پر بھی سوالہ نشان کھڑے کروا دیئے؟ یہ حد درجہ سنجیدہ سوالات ہیں۔ پہلی بات، جو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس برس کے آخر میں امریکا، مڈٹرم الیکشن کی طرف جا رہا ہے۔
موجودہ اعداد و شمار کے حساب سے ٹرمپ اور اس کی سیاسی جماعت، حد درجہ شکست کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ کی ریٹنگ، شرمناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ امریکی صدر، تجزیاتی رپورٹوں سے حد درجہ پریشان بلکہ خوف زدہ ہے۔ ایک تقریر کے دوران، فی البدیہہ مونہہ سے نکل گیا کہ امید ہے کہ اس برس کے آخر میں، میرے خلاف عدم اعتماد کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ مجھے گرفتاری کا مونہہ بھی نہیں دیکھنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ، کے متعلق امریکی میڈیا اور سیاسی مخالفین، ثبوت مہیا کر رہے ہیں کہ وہ شدید مالیاتی بے ضابطگیوں میں ملوث ہے۔ اقتدار کے دوران اپنے کاروبار کو بہت بڑھاوا دینے کی کوشش کی ہے۔
جس میں کرپٹو کرنسی کی دکان داری سرفہرست ہے۔ کرپٹو میں ٹرمپ خاندان کی کمپنی، کمزور ممالک کے طاقتور حلقوں کو حصص خریدنے پر زور دے رہی ہے۔ کاروباری........
