menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Lyallpur Se Faisalabad Tak

7 0
latest

لائل پور سے فیصل آباد تک

پچھلی صدی کی ساٹھ کی دہائی کا لائل پور حد درجہ سادہ اور منفرد تھا۔ یا شاید مجھے اپنے بچپن کی وجہ سے شہر کا مکمل ادراک نہیں تھا۔ ہر چند بلکہ بہت سے معاملات ایسے تھے، جنھیں کسی صورت میں رد نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے آبادی حد درجہ کم تھی۔ 1960 میں لائل پور کے کل نفوس چند لاکھ ہوں گے۔ اب تو معاملہ کروڑوں تک پہنچ چکا ہے۔ لائل پور ہی کیا ملک کا ہر شہر، آبادی کے بوجھ تلے دبا، بدحالی کے کیچڑ میں دھنسا ہوا ہے۔ مگر ترقی کے بیانات پڑھ اور سن کر معلوم پڑتا ہے کہ ہم لندن، پیرس سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔ یہ سب کچھ نظرکا دھوکہ ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ پورا ملک، بدامنی، جہالت، قتل و غارت اور غذائی قلت کا شکار ہے۔ دراصل اگر لوگ اپنا حکمران نہیں چن پائیں گے تو حالت ایسی ہی ہوگی؟ حکمران ملک کو ترقی اورامن کے علاوہ سب کچھ دے سکتے ہیں۔ اب تو یہ دلیل بھی جواب دے چکی ہے کہ ہمارا دشمن ہندوستان بس معدوم ہونے والا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بھارت کی صرف ایک ریاست، مہاراشٹرا کی جی ڈی پی، پانچ سو ساٹھ سے لے کر چھ سو پندرہ بلین ڈالر کے برابر ہے۔ 2026میں پاکستان کی جی ڈی پی شاید پانچ سو بلین ڈالر کے قریب ہے۔ اب خود ہی فیصلہ فرما دیجیے کہ آزادی کے بعد ترقی کس ملک نے کی ہے۔ ویسے جب ہمارے ہاں نظرنہ آنے والی ترقی اور دل دل پاکستان کے نغمے پیش کیے جاتے ہیں تو انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ خدارا تو ہی بتا دے کہ اس نظارے کو کیسے دیکھا جائے؟

بہر حال نصف صدی سے پہلے کا لائل پور بہت مختلف تھا۔ جناح کالونی کے گھر نمبر 342میں مقیم تھے۔ والدہ گورنمنٹ کالج، کارخانہ بازار میں لیکچرار تھیں۔ والد صاحب معروف وکیل تھے۔ یعنی ہم لوگ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے یا شاید نہیں۔ کیونکہ والد صاحب کے پاس ہمیشہ نئے ماڈل کی کار ہوا کرتی تھی۔ پہلی گاڑی شیورلٹ تو آج تک یاد ہے۔ اس لیے نہیں کہ اس میں بیٹھنا اچھا لگتا تھا۔ بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ وہ گاڑی اسٹارٹ عجیب و غریب طریقے سے ہوتی تھی۔ غفار ڈرائیور، ایک ہینڈل کو انجن کے سامنے والے حصے میں........

© Daily Urdu