menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Barbadi Ka Koh e Hamaliya

15 0
13.07.2026

سچ پوچھئے، تو کچھ بھی لکھنے کو دل نہیں چاہتا۔ اس لیے نہیں کہ تحریر کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ اصل بات، ملک میں موجودہ قتل و غارت، سیاسی بونوں کی مسند شاہی تک رسائی اور معاشی بدحالی ہے۔ روز لگتا ہے کہ دہشت گردی کا جن، اس ظلم سے زیادہ کیا کر پائے گا، جو اس واردات میں سرانجام دیاہے؟ مگر روز اندازے غلط پڑتے جاتے ہیں۔ تھوڑے عرصے بعد ایسا نیا مہیب واقعہ درپے ہوتا ہے کہ گذشتہ خون کے دھبے ماند پڑ جاتے ہیں۔ خوشی کی خبر سنے طویل عرصہ ہو چکاہے۔

رقم کرنے کو واقعات ہر سو موجود ہیں۔ مگر سوچیئے تو کچھ بھی نہیں ہے۔ دو ہفتے قبل، ایک سابقہ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر آفس تشریف لائے۔ طالب علم اور دوستوں نے مل کر تیس چالیس سنجیدہ لوگ اکٹھے کیے ہوئے تھے۔ سوال و جواب کے مرحلے میں متعدد سخت سوال بھی تھے۔ مگر میں جو پوچھنا چاہتا تھا، لگتا تھا کہ ان کا جواب دینا، قابل عزت مہمان کے لیے مشکل ہو جائے گا۔ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ اکثر معاملات کا جواب کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ تشنگی سی محسوس ہوئی۔

اس دورانیہ میں خاموش رہنا بہتر نظر آیا۔ ایسے لگتا ہے کہ اب معاملات، سوال و جواب کی دہلیز سے بہت آگے نکل چکے ہیں اور ابتری کے سب سے نچلے مقام پر فائز ہیں۔ جہاں سے کسی حکمران کو، کسی بھی طرح کی عوام کی تکلیف کی کوئی آواز سننے میں نہیں آتی۔ اشرافیہ کے لیے ہر طرف سکون ہی سکون ہے۔ مگر فرش کے ہر مقام پر مقتول انسانوں کے جسمانی اعضاء، لواحقین کی آہ و پکار، ان کے بچوں کا دل سوز ماتم ہی ماتم ہے۔ دراصل خواص اور عام طبقے کے درمیان اتنا طویل اور گہرا فاصلہ آ چکا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں۔ ان کی آبادیاں الگ ہیں۔

سپر مارکیٹیں، لباس، کھانے پینے کا اہتمام، چال چلن، رہن سہن اور سماجی رویے، سب کچھ ہی متضاد ہیں۔ اس تفریق کو ختم کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔ ویسے کوئی امید بھی نہیں ہے۔ موجودہ سیاسی نظام اور حکمرانوں پر نظر دوڑائیں، تو صاحب دل بیٹھتا ہے۔ اتنے سطحی افراد، ہم پر حکومت کر رہے ہیں کہ ملک تیاگ دینے کو من چاہتا ہے۔ مگر دوسرے ممالک میں، عام........

© Daily Urdu