Ab Koi Riffat Un Nisa Nahi Mare Gi?
اب کوئی رفعت النساء نہیں مرے گی؟
شہزادی نیلو فر، ترکی کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ 1916ء میں استنبول کے بلندپایہ محل میں پیدا ہوئی۔ سلطنت عثمانیہ کا، اس دور میں تین براعظموں پر حکم چلتا تھا۔ کمال اتا ترک نے جب خلافت کا خاتمہ کیا تو نیلوفر اپنی والدہ کے ساتھ فرانس کے ایک متمول شہر نیس میں پناہ گزین ہوگئی۔ شہزادی صاحبہ خوبصورتی میں بے مثال تھی۔ حیدر آباد کے نظام کے بیٹے معظم جاہ نے نیلوفر کو پہلی بار دیکھا تو دل ہار بیٹھا۔ فوراً نکاح کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ آپ حیران ہوں گے کہ ترک شاہی خاندان ہی کے ایک فرد شہزادہ عثمان اور ان کی اہلیہ شہزادی کریمہ خاتون نے خواہش ظاہر کی کہ معظم جاہ سے رشتہ کروانے کے عوض انھیں پچیس ہزار برطانوی پاؤنڈ سالانہ ملیں گے اور ایسے ہی ہوا۔ شہزادی نیلوفر کی طلاق 1952ء میں ہوئی۔
اس وقت تک یہ پیسے شہزادہ عثمان کو ملتے رہے۔ معظم جاہ سے شادی فرانس کے ایک محل Villa Carabacelمیں منعقد ہوئی۔ یورپ کے تمام اخبارات اور جریدوں نے اس شاہی تقریب کا ذکر کیا۔ بارہ دسمبر 1931ء میں یہ حددرجہ نمایاں جوڑا ہندوستان کی ریاست حیدر آباد پہنچ گیا۔ ذہن میں رہنا چاہیے کہ پورے برصغیر میں حیدر آباد امیر ترین ریاست تھی۔ حیدر آباد کے نظام نیلو فر کی بہت قدر کرتے تھے۔ یہ خاتون بغیر برقعے کے، ہر شاہی تقریب اور دیگر مجالس میں شامل ہوتی تھی۔ نیلو فر واحد خاتون تھی جو نظام کو پاپا کہہ کر مخاطب کرتی تھی۔ باقی تمام لڑکیاں نظام کو سرکار کے خطاب سے بات کرتی تھیں۔ شہزادی نیلوفر کو دنیا کی دس خوبصورت ترین خواتین میں شامل کیا گیا۔
انھیں حیدر آباد کا کوہ نور قرار دیا گیا۔ مگر قسمت دیکھئے کہ معظم جاہ اور شہزادی صاحبہ کبھی بھی صاحب اولاد نہ ہو سکے۔ رفعت النساء بیگم شہزادی صاحبہ کی قریبی ترین ملازمہ تھی۔ نیلوفر صاحبہ اس پر بھرپور اعتماد کرتی تھیں۔ ملازمہ کا تعلق مقامی علاقے ہی سے تھا۔ اس کی شادی کے تمام اخراجات شاہی خاندان نے ادا کیے۔ مگر قسمت دیکھئے کہ رفعت النساء زچگی کے دوران مناسب طبی امداد نہ ہونے........
