menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Yaqeen Ki Riyasat

9 0
latest

تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیے تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ دنیا کی کوئی سلطنت، کوئی ریاست اور کوئی تہذیب محض تلوار، خزانے یا فوج کے زور پر ہمیشہ قائم نہیں رہی۔ طاقت نے سرحدیں ضرور فتح کیں، مگر دلوں کو کبھی فتح نہ کر سکی۔ دل ہمیشہ یقین سے جیتے گئے اور جب یہی یقین ٹوٹا تو طاقت کے بلند و بالا قلعے بھی ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔

انسانی تہذیب کی سب سے بڑی دریافت آگ، پہیہ، انٹرنیٹ یا مصنوعی ذہانت نہیں، بلکہ وہ اجتماعی اعتماد ہے جس نے اجنبی انسانوں کو ایک قوم، ایک معاشرہ اور ایک ریاست میں تبدیل کیا۔ اگر لوگ ایک دوسرے پر یقین نہ کرتے تو تجارت وجود میں نہ آتی، اگر قانون پر اعتماد نہ ہوتا تو عدالتیں بے معنی ہوتیں اور اگر ریاست پر یقین نہ ہوتا تو حکومت صرف طاقتور افراد کے ایک گروہ کا نام رہ جاتی۔

ریاست دراصل ایک خاموش معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ کسی کاغذ پر نہیں لکھا جاتا بلکہ شہریوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ ریاست اپنے شہری سے کہتی ہے کہ قانون کی پابندی کرو، ٹیکس ادا کرو، دوسروں کے حقوق کا احترام کرو اور بدلے میں ہم تمہاری جان، مال، عزت، آزادی اور مستقبل کی حفاظت کریں گے۔ یہی وہ وعدہ ہے جس پر جدید ریاست کی پوری عمارت قائم ہے۔ اسی لیے آئین صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ قوم اور ریاست کے درمیان اعتماد کا عہد ہوتا ہے۔ قانون صرف دفعات کا مجموعہ نہیں بلکہ انصاف کی امید کا نام ہے، عدالت صرف ایک عمارت نہیں بلکہ مظلوم کے آخری یقین کا دروازہ ہے اور پارلیمان صرف منتخب افراد کا اجتماع نہیں بلکہ عوام کی اجتماعی خواہشات کی حقیقی نمائندہ ہونی چاہیے۔

انسانی زندگی میں ریاست کا مقام بھی کسی حد تک ماں جیسا ہوتا ہے۔ جس طرح ایک ماں اپنے بچوں کی ضروریات، کمزوریوں، صلاحیتوں اور مستقبل سے آگاہ ہوتی ہے اور ہر حال میں ان........

© Daily Urdu