Riaz Ka Tadabbur Aur Islamabad Ka Pull
ریاض کا تدبر اور اسلام آباد کا پل
باب المندب کی تنگ گزرگاہ میں جب جولائی 2026 کی ایک دوپہر ایک تجارتی جہاز کے کپتان نے دور سے دھواں اٹھتے دیکھا تو اسے صرف ایک جہاز کا خطرہ نہیں تھا، یہ دنیا کی روٹی، تیل کے راستے کا خطرہ تھا۔ اسی ہفتے ریاض میں ایک اجلاس میں یہی نکتہ زیر بحث تھا کہ صبر کب تک اور تحفظ کب۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے سعودی عرب کی سات سالہ کہانی سمجھ آتی ہے۔ میرے نزدیک 2019 سے آج تک سعودی پالیسی کا جوہر ایک ہی ہے، صبر کے ساتھ تحفظ۔ یہ کوئی دوہرا راستہ نہیں، یہ ایک سیدھی شاہراہ ہے جس پر کبھی مصافحے کا پھول کھلتا ہے اور کبھی حفاظت کی دیوار بنانی پڑتی ہے۔
ستمبر 2019 میں بقیق اور خریص پر حملے کے بعد سعودی قیادت نے یہ جان لیا کہ ترقی کا چراغ تب ہی جلے گا جب ہوا میں بارود کی بو نہ ہو۔ اسی احساس نے ویژن 2030 کو مزید مضبوط کیا، کہ نیوم جیسے شہر سیاحوں سے آباد ہوں، بندوقوں سے نہیں۔ اسی دور اندیشی نے جنوری 2021 میں العلا میں خلیجی بھائیوں کو پھر ایک دسترخوان پر بٹھایا اور قطر سے دوریاں ختم کرائیں۔ مئی 2022 میں ترکی کے صدر کا برسوں بعد ریاض آنا اسی سلسلے کی کڑی تھا کہ مسلمان ممالک آپس میں الجھنے کے بجائے جڑیں اور پھر مارچ 2023 میں دنیا نے وہ منظر دیکھا جسے ناممکن کہا جاتا تھا، بیجنگ میں سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کا مصافحہ اور سفارت خانوں کا دوبارہ کھلنا، یہ کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں تھا، یہ ریاض کے اس یقین کا نتیجہ تھا کہ بات چیت سے بھی پہرے مضبوط ہوتے ہیں۔ اس تاریخی پیش رفت کو پاکستان نے سب سے پہلے سراہا کیونکہ اسلام........
