menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jab Aansu Bhi Riyasat Ki Zuban Bolen

22 0
07.07.2026

جب آنسو بھی ریاست کی زبان بولیں

تہران کی گلیوں میں چار مہینے بعد پہلی بار سکون تھا۔ سکون بھی ایسا جو خود ایک ماتم کی صورت اختیار کر گیا۔ لاکھوں افراد آیت اللہ علی خامنہ ای کے تابوت کے پیچھے چل رہے تھے۔ یہ منظر جولائی کے پہلے ہفتے میں دنیا کی ہر بڑی نشریاتی ادارے پر نشر ہوا اور اسی منظر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حیرت میں ڈال دیا۔ ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ" وہ سمجھتے تھے لوگ خامنہ ای سے نفرت کرتے ہیں، شاید یہ آنسو جھوٹے ہیں"۔ یہی ایک جملہ، اس پوری جنگ کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان پائے جانے والے فہم کے فرق کو بے نقاب کر گیا۔

یاد رکھنا چاہیے کہ اسی تہران میں، اسی سال اٹھائیس فروری کی رات، منظر یکسر مختلف تھا۔ مگر چار مہینے کی جنگ، بمباری اور تباہی نے وہی سرزمین ایک الگ کہانی میں بدل دی۔ ملک بھر میں سترہ سو سے زیادہ عام شہری ہلاک ہوئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور مہنگائی اس حد کو چھو گئی جس نے ہر گھر کا بجٹ الٹ دیا۔ ایرانی ریال کی قدر مزید گر گئی اور افراط زر پہلے سے پچاس فیصد سے تجاوز کر چکا تھا۔ جنگ کے دوران ہونے والا مالی نقصان دو سو ستر ارب ڈالر سے زیادہ بتایا گیا۔ یہی وہ زمین تھی جہاں چار جولائی کو چھ روزہ احتجاج شروع ہوا۔ دس ملین سے زائد افراد کے شریک ہونے کی توقع کی گئی۔ سکیورٹی ماہرین نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں........

© Daily Urdu