Kaghaz Ke Sandooq Mein Band Jamhuriyat, Electronic Qawaneen Ki Talwar Aur Aur Haraf e Haq Ka Tawan
کاغذ کے صندوق میں بند جمہوریت، الیکٹرانک قوانین کی تلوار اور حرفِ حق کا تاوان
اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں ہر سال پندرہ ستمبر کی تاریخ ارمغانِ نو بن کر آتی ہے اور پوری دنیا کو یہ باور کرانے کی سعی کی جاتی ہے کہ انسان نے صدیوں کی تگ و دو اور بے شمار قربانیوں کے بعد اپنے مقدر، اپنے حقوق اور اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا آبرومندانہ طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ نیویارک کے پرشکوہ ہالوں میں بیٹھ کر جب بین الاقوامی دانشور اور رہنما جمہوریت کے عالمی دن کی افادیت پر مقالے پڑھتے ہیں، تو الفاظ کی چمک دھمک سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کرۂ ارض پر اب کوئی انسان بے بس نہیں رہا، ہر فرد کے پاس مساوی اختیارات ہیں اور آئین و قانون کی نظر میں شاہ و گدا کا فرق مٹ چکا ہے۔ اس بار بھی پندرہ ستمبر کو بڑی آب و تاب سے تقریروں کے گل دستے سجائے گئے، دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی یلغار سے پیدا ہونے والے گمراہ کن مغالطوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور خبروں اور اطلاعات کی درستی کو جمہوریت کا بنیادی ستون قرار دیا گیا۔
لیکن جب اقوامِ متحدہ کے ان خوبصورت، دلکش اور دل پذیر عالمی منشوروں اور بلند بانگ نکات کو ہم اپنے دیس کی تلخ زمینی حقیقت کے ترازو میں تولتے ہیں، تو ایک روح فرسا، کرب ناک اور چبھتا ہوا سوال ہر باشعور ذہن کے طاقچوں پر ابھرتا ہے: کیا ہم واقعی ایک جمہوری ملک میں رہ رہے ہیں؟ کیا جمہوریت صرف اس رسمی کارروائی کا نام ہے کہ ہر پانچ سال بعد ایک سادہ سے کاغذ کے ٹکڑے پر مہر لگا کر اسے لکڑی يا لوہے کی صندوقچی میں ڈال دیا جائے اور پھر اس کے بعد اگلے پانچ برس تک اس کاغذ کا حامل شہری اپنے........
