menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naseeb

30 0
19.03.2026

"دیکھو۔۔ یہ کوئی زبردستی نہیں ہے۔۔ تم آ رام سکون سے۔۔ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا۔۔ یہ تو۔۔ بس ہماری خواہش ہے۔۔ حکم نہیں ہے۔۔"

وحید نے نور کے سر پر شفقت سےہاتھ رکھ کر کہا

نور باپ کے لہجے کی نرمی کے سامنے کچھ کہہ ہی نہ سکی مگر اندر ہی کچھ تھا جو اس کو روک رہا تھا۔

نور اسپین میں رہتی تھی۔ کئی سال پہلے جب اس کے والد وحید اسپین آئے تھے تو دنیا کے حالات مختلف تھے۔ دہشتگردی مذہبی منافرت اس درجے کو نہیں پہنچی تھی۔ روزگار کے مواقعے ہر طرف بکھرے پڑے تھے۔ وحید بھی ایسے ہی کسی موقعے کی تلاش میں اسپین آیا تھا۔ کچھ عرصہ سخت محنت کے بعد وہ یہاں سیٹل ہوگیا اور پاکستان سے اپنی بیوی سمیرا اور بیٹے کو بھی بلا لیا۔ علی اور نورکے علاوہ ان کی ایک بیٹی دعا اور ایک بیٹا احمد بھی تھے۔ بچوں نے اسپین میں ہی آنکھ کھولی اور یہیں کے ماحول میں پلے بڑھے۔ سمیرا ایک کم پڑھی لکھی عورت تھی مگر اس کا خمیر مذہبی و ثقافتی اقدار سے گندھا ہوا تھا لہذا وطن سے دور ہونے کے باوجود اس نے اپنے بچوں کو مذہب اور روایات سے دور نہیں ہونے دیا تھا۔ اس نے اپنے گھر کے اندر ہمیشہ پاکستانی ماحول کو زندہ رکھا تھا جہاں شوہر اور باپ گھر کا سربراہ اور فیصلے کرنے کا حق دار ہوتا ہے۔ دوسری طرف وحید بھی بچوں پر اپنی مرضی ٹھونسے کا قائل نہ تھا یوں ان کے گھر کا ماحول ایک مثالی گھر انے کو جنم دے چکا تھا جہاں سب ایک دوسرے سے محبت اور خلوص کے اٹوٹ دھاگوں سے بندھے تھے۔

"دعا۔۔ میرا دل نہیں مان رہا۔۔ مگر امی اور بابا کی خواہش۔۔"

سوچ سوچ کر نور کا ذہن ماؤف ہو چکا تھا۔"نور۔۔ امی بہت مشکل سے اپنے ڈپریشن سے نکل پائی ہیں۔۔ یہ ان کی دلی خواہش ہے۔۔ بس۔۔ مجھے اس کے علاوہ اور کچھ یاد نہیں۔۔" آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگے۔

نور کا بھی دل بھر آیا دونوں بہنیں بے ساختہ گلے لگ کر رونے لگیں۔

سمیرا کو ڈپریشن ہوگیا ہے۔۔

یہ خبر وحید اور بچے سب ہی حیران رہ گئے۔

"ہم ایک آئیڈیل لائف گزار رہے ہیں۔۔ لوگ اس زندگی کی تمنا کرتے ہیں اور امی کو ڈپریشن ہوگیا ہے۔۔"

وحید بچوں کی بات سن کر رنجیدہ ہوگیا

"ہاں ہم ایک آئیڈیل لائف گزار رہے ہیں اور اس آئیڈیل لائف کو مینٹین رکھنے میں ہم اتنے مصروف ہیں کہ ہمارے پاس سمیرا کے لئے وقت نہیں ہے۔۔ وہ سارا دن ہماری واپسی کی راہ دیکھتی ہے۔۔ ایک بھرے پرے گھر میں رہنے والی ماں کے لئے۔۔ تنہائی سے بڑا دکھ کیا ہوگا۔۔"

وحید سمیرا سے بہت محبت کرتا تھا۔ وہ اس کی زندگی بھر کی ساتھی تھی۔ ایک نہایت خدمت گزار اور اطاعت شعار بیوی تھی۔ بچوں کی تربیت میں بھی سمیرا نے اس عنصر کو سب سے مقدم رکھا۔ دکھ یا سکھ کسی موقعے پر سمیرا نے اس کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا اور اب۔۔ اس کو پل پل کمزور ہوتے۔۔ اداس و رنجیدہ دیکھنا۔۔ وحید کے لئے بہت بڑی آزمائش تھی۔ بچے بھی ماں کی حالت پر دل گرفتہ تھے مگر بے بسی سے دیکھنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔۔ زندگی تھی کہ فرصت ہی نہیں دیتی تھی۔

"وحید۔۔ میں یہاں نہیں مرنا چاہتی۔۔ مجھے پاکستان لے چلو۔۔ میرے اپنوں میں۔۔"

سمیراکا ڈپریشن بڑھتا جا رہا تھا۔ اس کی خوراک بہت کم ہوگئی تھی، وزن تیزی سے کم ہو رہا تھا، رات رات بھر جاگتی تھی انزائٹی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ اس کو یقین ہوگیا تھا کہ وہ جلد مر جائے گی۔

سمیرا نے بڑی کڑی خواہش کی تھی سب کچھ چھوڑ کر جانا اتنا آسان نہ تھا۔ علی اپنی جاب اسٹارٹ کر........

© Daily Urdu