menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hybrid Ab Qabil e Amal Nahi Raha

28 0
12.06.2026

''ہائی برڈ " اب قابلِ عمل نہیں رہا

سہیل وڑائچ مجھے بہت عزیز ہیں۔ ہم عصر کالم نگار ہوتے ہوئے مگر بدھ کے روز ان سے بے حد پیشہ وارانہ حسد محسوس ہوا۔ بے شمار صحافی، قارئین اور چند (یہاں چند پر غور ضروری ہے) سیاستدان رات گئے تک فون کے ذریعے مجھ سے یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ برادرم نے بدھ کی صبح چھپے کالم میں موجودہ حکومتی بندوبست کے خاتمے کا اعلان کیوں کیا ہے۔

دیانتداری سے میں ہر شخص کو ایک ہی جواب دیتا رہا اور وہ یہ کہ میری سہیل وڑائچ سے عرصہ ہوا ٹیلی فون پر بھی گفتگو نہیں ہوئی۔ جو دلائل اگرچہ موصوف نے موجودہ حکومتی بندوبست کی خامیوں کو اجاگر کرنے کے لئے بیان کئے ان میں سے اکثر سے اتفاق کرتا ہوں۔ چند حقائق جو موصوف نے بیان کئے وہ گزشتہ کئی مہینوں سے مجھے بھی پریشان کئے ہوئے ہیں۔

سہیل وڑائچ کا یہ دعویٰ مثال کے طورپر قطعاََ درست ہے کہ سیاستدانوں نے عوام کے دلوں میں ابلتے جذبات سے آگہی کے لئے اخبار نویسوں سے رابطہ ختم کردیا ہے۔ گنتی کے چند سیاستدان فقط اپنی جماعتوں کا موقف بیان کرنے کے بجائے سیاسی قائدین کی نگاہ میں رہنے کے لئے ٹی وی کے چند مشہور اینکروں کے ٹاک شوز میں ہفتے میں کم از کم ایک بار شمولیت کے علاوہ کمی کمین صحافیوں سے عموماََ دوری اختیار کئے رکھتے ہیں۔ کئی دہائیوں تک آزادی اظہار کے چمپئن رہے سیاستدانوں کی بے پناہ اکثریت نے باہمی اختلافات بھلاکر موجودہ حکومتی بندوبست کے دوران صحافت کا گلا گھونٹنے کے لئے ایسے قوانین بھی پارلیمان سے منظور کروالئے ہیں جن کے اطلاق کی ایوب خان اور جنرل ضیاء جیسے فوجی آمروں کو بھی ہمت نہیں ہوئی تھی۔

مجھ جیسے کئی صحافی........

© Daily Urdu