General Kakar Kaise Thay, Chief Kaise Bane?
جنرل کاکڑ کیسے تھے، چیف کیسے بنے؟
پیر کے روز وفات پانے والے پاک فوج کے ایک سابق سربراہ جنرل عبدالوحید کاکڑ سے میری کبھی سرسری ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ ان سے براہِ راست رابطہ رکھنے والے سیاسی وعسکری افراد سے مگر بطور رپورٹر مسلسل رابطے میں رہا ہوں۔ ان روابط کی بدولت جنرل صاحب کی تاحیات مداحی کو مجبور ہوا۔
وطن عزیز میں اقتدار کے کھیل کو 3 سے زیادہ دہائیوں تک بہت قریب سے دیکھا ہے۔ عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے بعد نتیجہ یہ نکالا کہ ہماری اشرافیہ جمہوری سیاست ضوابط کے تحت چلانے کو ہرگز تیار نہیں۔ محلاتی سازشوں میں مصروف رہتی ہے۔ مقصد ان کا کسی فردِ واحد کو بادشاہی اختیارات کا مالک بنانا ہوتا ہے۔ ریاست کے دیگر اداروں یا عہدے داروں سے اشتراکِ اقتدار ہماری اشرافیہ کے خمیرمیں شامل ہی نہیں۔ مذکورہ تناظر میں جنرل کاکڑ قابل ستائش استثناء ثابت ہوئے۔ کاش ان کے ساتھ مل کر ہمارے سیاستدان ریاستی اداروں کے مابین اختیارات کی تقسیم کا واضح نظام طے کرسکتے۔
مزید بڑھنے سے قبل باددلانا ہوگا کہ جنرل ضیاء کے فضائی حادثے میں جاں بحق ہوجانے کے بعد 1988ء میں جو انتخابات ہوئے ان کے نتائج کو مرحوم فوجی آمر کی سرپرستی میں ابھری اشرافیہ نے دل سے قبول نہیں کیا تھا۔ عسکری قیادت اور افسر شاہی پر مبنی "دائمی حکومت" اس خوف میں مبتلا رہی کہ وہ اپنے والد کو پھانسی کے پھندے کی جانب دھکیلنے والوں سے انتقام لینا چاہیں گی۔ دیانتدارانہ کاوشوں کے باوجود محترمہ ان شکوک کے تدارک میں ناکام رہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کو وزارتِ عظمیٰ کا منصب سپرد کرنے سے قبل ان دنوں کے آرمی چیف نے طویل مذاکرات کے بعد چند حدود وقیود منوائیں۔ ان کے نتیجے میں جنرل ضیاء کے انتہائی وفادار اور تجربہ کار معاون غلام اسحاق خان کو صدر منتخب کروایا گیا۔ آئین میں 8ویں ترمیم کی بدولت وہ کئی اعتبار سے وزیر اعظم سے بھی زیادہ بااختیار تھے۔........
