menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ghalib Ke Dewan Ka Pehla Shair Aur Faryad

24 0
17.03.2026

غالب کے دیوان کا پہلا شعر اور فریاد

غالب نے اپنے دیوان کا آغاز شکر سے نہیں، فریاد اور شکوے سے کیا ہے۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ شکو ے اور فریاد کو، انسانی وجود کی حقیقت کے اظہار کا سب سے مستند وسیلہ خیال کرتے محسوس ہوتے ہیں۔

غالب نے یہ غزل 1816ء میں، جب وہ محض انیس برس کے تھے، لکھی تھی۔۔ ان دنوں غالب بیدل و اسیر سے ضرور متاثر تھے اور مضامینِ خیالی لکھا کرتے تھے، مگر ان کے مضامینِ خیالی میں انسانی ہستی، خدا، کائنات، بقاو فنا، مقصد ومدعا وغیرہ سے متعلق غیر معمولی بصیرتیں ظاہر ہوئی ہیں۔

کہنے کا مقصود یہ ہے کہ ان کے مضامینِ خیالی، خالی یعنی hollow نہیں تھے۔ دیوان کا پہلا شعر اس کی سب سے اہم مثال ہے:

نقش، فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا کاغذی ہے پیرہن، ہر پیکرِ تصویر کا

یہ شعر، صرف غالب کے تصورِ فریاد ہی کو پیش نہیں کرتا، اردو میں فریاد کا ایک یکسر نیا تصور بھی متعارف کرواتا ہے اور بعد میں جسے غالب دیگر پیرایوں میں ظاہر کرتے ہیں۔

اس شعر کی شرح میں شارحین نے بہت قلم گھسایا ہے۔ کچھ کام کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ اعتراض تو اب رفع ہوچکا ہے کہ اس شعر میں کاغذ پہن کر، فریاد کرنے کی جس ایرانی روش کا ذکر ہے،........

© Daily Urdu