menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Balochistan Mein Inqilab

35 5
16.02.2026

مجھے حیرت ہوئی جب میں نے اعلیٰ سکیورٹی ذرائع کو بلوچستان کی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے سنا۔ میرے پاس صحافی ہونے کے باوجود وہ تمام انفارمیشن نہیں تھی جو وہ شیئر کر رہے تھے۔ ہمارا المیہ ہے کہ ہم نان ایشوز پر سیاست اور صحافت کرتے ہیں اوراس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گورننس اور پرفارمنس غیر ضروری بن کے رہ جاتی ہیں، اہمیت صرف الزامات اور بڑھکوں کی رہ جاتی ہے اور اس میں قصور عوام کابھی ہے۔

سیٹلائٹ چینلز ہوں یا یوٹیوب کے، سب کے سب ریٹنگز پر چلتے ہیں اورایسے کسی چینل کی کامیابی ناممکن سی بات ہے جو سنجیدہ ہو۔ ہمارے پاس بہت ساری خبریں کراچی، لاہور اور پشاور سے ہوتی ہیں اور کوئٹہ ان میں بہت پیچھے ہوتا ہے اور اگر کوئی خبر وہاں سے آتی اور ڈسکس بھی ہوتی ہے تو وہ دہشت گردی بارے ہوتی ہے، بی ایل اے بارے ہوتی ہے۔

میں اسے بلوچستان میں انقلاب سمجھتا ہوں جس کے بارے قانون سازی گزشتہ برس ستمبر میں ہوئی اور اس کا نفاذ اس برس جنوری میں، جی ہاں، پراونشل ایڈمنسٹرڈ ٹرائبل ایریاز کے بارے دی بلوچستان لیویز فورسز ایکٹ منظور کیا گیا جس کے تحت جنوری میں لیویز فورس کو بلوچستان پولیس میں ضم کر دیا گیا۔ سب سے پہلے یہ یاد کرنے کی ضرورت ہے کہ انگریز کے دور سے ہی بلوچستان اے اور بی ایریاز میں تقسیم ہے۔

دس سے بیس فیصد اے ایریاز میں قانون کی حکمرانی تھی، اسی سے نوے فیصد بی ایریاز میں سرداروں کی۔ اے ایریاز میں پولیس اور ایف آئی آر کا نظام موجود ہے جبکہ بی ایریاز میں لیویز اور جرگے اہم ہیں۔ بلوچستان لیویز وہ فورس ہے جس اپنے اپنے علاقے میں سردار بناتے ہیں مگر ان کی تنخواہیں سرکار ہی سردار کو دیتی........

© Daily Urdu