menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Akhbarat Aur Kitabon Ka Mustaqbil

17 0
20.05.2026

اخبارات اور کتابوں کا مستقبل

میں نے پچھلے کالم میں صحافت اور صحافیوں کے مسائل پر کچھ بات کی مگر ا س دوران دوستوں نے ایک اور اہم مسئلہ اٹھا دیا۔ وہ مسئلہ اخبارات اور کتابوں کے مستقبل کا ہے۔ ہم جیسے کارکن صحافیوں کے لئے یہ موضوع بہت دلچسپ اور اہم ہے جنہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز اخبارات سے کیا۔ ہر روز تازہ اخبار کی خوشبو بھی اہم ہوتی تھی اور اس میں اپنی ایکسکلوسو نیوز کی کوریج دیکھ کے خوش ہونا، اپنی مسنگ دیکھ کے ان کے جواز ڈھونڈنا، یہ شغل بھی عشروں تک رہا بلکہ روزنامہ نئی بات، کے گروپ ایڈیٹر کے طور پر آج بھی ہے مگر پھر ٹی وی چینل آ گئے اور وہ مسنگ جو صبح دس یا گیارہ بجے کی میٹنگ میں ڈسکس ہوا کرتی تھی وہ ٹیلی فون پر فوری ہوگئی کہ فلاں چینل نے یہ خبر دے دی، تم کہاں ہو۔

صحافی کی زندگی ہر وقت چیلنج کے مقابلے میں ہوتی ہے اور سب سے زیادہ خبر سب سے پہلے بریک کرنے کا چیلنج۔ بہرحال الیکٹرانک میڈیا بارے تو کچھ بات ہوگئی اور پیارے بھائی گل نوخیز اختر نے اس پر اپنے کالم میں بھی ذکر کر دیا مگر اب بات اخبارات کی ہے، کتابوں کی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے شہر ہ آفاق کتاب میلے میں جائیں یا کسی بھی دوسری کتابوں بھری جگہ، ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ کتاب دم توڑ رہی ہے، نوجوان موبائل فونز میں گم ہو رہے ہیں تو ایسے میں کتابوں کامستقبل کیا ہے۔

کتابوں کے مستقبل سے پہلے اخبارات کے مستقبل پر بات کر لیں کیونکہ اس سے تو ہماری یادیں ہی نہیں بلکہ رزق بھی جڑا ہوا ہے۔ ابھی ایک صحافی دوست نے شیئر کیا کہ روزنامہ جنگ کراچی، لاہور سمیت دیگر مقامات پر اپنی........

© Daily Urdu