Mahwari
ساڑھے چودہ برس کی عمر میں مجھے پہلی بار ماہواری آئی تو میں بالکل بےخبر تھی کہ میرے جسم میں کیا ہو رہا ہے۔ پہلے دن گہرے کپڑوں پر چند نشان دیکھے تو انہیں مٹی یا کسی معمولی دھبے پر محمول کیا اور نظرانداز کر دیا۔ اگلے روز جب خون باقاعدہ آنے لگا تو ہاتھ لرزنے لگے۔ مجھے یقین ہوگیا کہ جسم کے اندر کوئی عضو خراب ہوگیا ہے اور اب میں مرنے والی ہوں۔ بڑی بہن کو روتے ہوئے بتایا، مگر دل میں سب سے بھاری خیال یہ تھا کہ امی مجھ سے اتنی محبت کرتی ہیں، یہ سن کر ان پر کیا گزرے گی۔ امی نے مجھے سینے سے لگایا، پیار کیا، خود بھی آبدیدہ ہوئیں اور پھر بہن نے مجھے سب کچھ سمجھایا۔ وہ خوف آج بھی یاد ہے۔ اسی لیے میرا خیال ہے کہ بچیوں کو ماہواری کے بارے میں پہلی ماہواری سے پہلے آگاہ کرنا چاہیے۔ اسی غرض سے چند بنیادی باتیں ایک جگہ جمع کر رہی ہوں، تاکہ مائیں اپنی بچیوں کو پہلے سے تیار کر سکیں اور بچیاں بھی یہ جان سکیں کہ ماہواری سے گھبرانے یا شرمندہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
1۔ ماہواری کی تیاری خون کے پہلے نشان سے پہلے شروع ہو جانی چاہیے۔ بلوغت کے آغاز کے ساتھ ہی جسم میں تبدیلیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں اور چھاتی کی نشوونما، بغل اور زیرِ ناف بال، جسمانی ساخت میں تبدیلی اور سفید یا شفاف رطوبت اسی عمل کی عام نشانیاں ہیں۔ انہی دنوں بچی کو تفصیل سے سمجھا دیجیے کہ ماہواری........
