menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

AI Column Naveesi Aur Qalam o Qartas

22 0
17.05.2026

اےآئی کالم نویسی اور قلم و قرطاس

ایک زمانہ تھا جب کالم نویسی ایک تخلیقی ریاضت اور خداداد صلاحیت سمجھی جاتی تھی۔ لکھنے والا اپنی سچ فکر، مطالعے، مشاہدے، تجربے اور احساسات کوقلم کےذریعے قرطاس پرمنتقل کرتا تھا اور قاری اس تحریر میں ایک زندہ انسان کی سوچ اور درد محسوس کرتا تھا۔ مگر آج مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے دور میں تخلیقی صلاحیتوں کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ 1994ء میں، جب میری عمر صرف اٹھارہ برس تھی، میں نے مضمون نویسی اور کالم نگاری کا آغاز کیا۔ اس زمانے میں کمپیوٹر چند بڑے اداروں تک محدود تھے عام لوگوں کی دسترس میں نہیں تھے اور نہ ہی ہمیں گھر پر کمپیوٹر کی سہولت میسر تھی۔ ہم اپنے مضامین ہاتھ سے کاغذ پر لکھتے، کئی کئی صفحات بھر دیتے اور پھر خود اخبارات کے دفاتر جا کر جمع کراتے تھے۔ جب چند دن بعد اپنی تحریر اخبار میں شائع دیکھتے تو وہ خوشی ناقابلِ بیان ہوتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب لکھنے والا اپنی تخلیق، سوچ وفکرکے ساتھ لکھتا تھا اور قاری بھی اصل سوچ اور اصل قلم سے استفادہ کرتا تھا۔

اس زمانے میں اردو کمپوزنگ بھی آسان نہ تھی۔ بعد میں جب شاہکار، نقاش اور دیگر اردو پروگرام مارکیٹ میں آئے تو ہم نجی دکانوں سےکمپوزنگ کرا کے اپنے مضامین اور کالم اخبارات کو ارسال کرتے تھے۔ پھر وقت نے ایک نئی کروٹ لی اور وہ دور بھی آیا جب کمپیوٹر ہماری دسترس میں آ........

© Daily Urdu