menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

24 May, Walid e Mohtaram Ki Rukhsati Ka Din

17 0
23.05.2026

24 مئی، والد محترم کی رخصتی کادن

والد محترم کی صوبہ خیبر پختونخوا کے پُرفضا اور دینی روایات سے مالا مال ضلع شانگلہ کے گاؤں دیدل میں 11 اگست 1931ء کو ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھلی جہاں علمِ دین، تقویٰ اور خدمتِ اسلام نسل در نسل منتقل ہو رہی تھی۔ والد مرحوم نے اپنی پوری زندگی قرآن، مسجد، علم، امامت اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کیے رکھی۔ آپ کے والد گرامی حضرت مولانا قاضی فضل مولیؒ اپنے وقت کے جید عالم دین تھے۔ آپ جامعہ امینیہ دہلی کے فاضل، مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کے تلمیذِ خاص اور ریاستِ سوات میں سرکاری قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز رہے۔ یہی وجہ تھی کہ گھر کا ماحول ابتدا ہی سے مکمل دینی، علمی اور روحانی تھا۔ اسی ماحول نے مولانا حبیب الدیان فاروقیؒ کی شخصیت کی بنیاد رکھی۔ والد محترم نےابتدائی تعلیم ضلع تورغر کے علاقے دوڑمیرہ میں اپنے ماموں حضرت مولانا محمود حسن صاحبؒ سے حاصل کی، جو دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ بچپن ہی سے علمِ دین سے غیر معمولی شغف، عبادت سے محبت اور قرآنِ کریم سے قلبی تعلق نمایاں تھا۔ یہی ذوق آگے چل کر آپ کی پوری زندگی کا محور بن گیا۔

1951ء میں والد نے شہرِ قائد کا رخ کیا، جو اس دور میں دینی علوم کے بڑے مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ یہاں آپ نے دارالعلوم کراچی (نانک واڑہ) میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔ بعدازاں مزید علمی پیاس........

© Daily Urdu