Bad Naseeb Rehmat
"منتہیٰ"۔۔ عالمِ ارواح میں فرشتے نے نام پکارا تو بہشت کے چمن میں رنگ برنگے پھولوں پر منڈلاتی ایک تتلی، فلک کی کہکشاؤں میں جھلملاتی ایک روشنی، خدا کے دربار سے منسلک ایک شجر سے لٹکی مالاؤں کا جھولا جھولتی بچی کی روح اٹھلاتی ہوئی بولی۔۔ جی میں ہوں۔۔ فرشتے نے کہا! خدا کے حکم سے تمہیں زمین پر بھیجا جا رہا ہے۔۔ مٹی سے بنے انسانی جسم میں تمہیں پھونکا جائے گا اور تم اسکی زندگی کی علامت بن کر اسکی موت تک اس میں رہوگی۔۔
منتہیٰ بولی! زمین، انسان، جسم، موت۔۔ یہ سب کیا ہے اے ملک۔۔ فرشتے نے کہا۔۔ آج سے ہزاروں سال قبل یہاں ایک اشرف المخلوقات انسان کو بنایا گیا تھا۔۔ اسکا نام آدم تھا۔۔ اسے ہم سب نے سجدہ کیا تھا۔۔ پھر اسے زمین نامی ایک سیارے پر بھیجا گیا۔۔ تم اسکی اولاد ہو کر انہی کے درمیان اسی زمین پر جا رہی ہو۔۔ منتہیٰ کی ننھی آنکھوں میں خوابوں کے جگنو ٹمٹمانے لگے اور منظر تبدیل ہوگیا۔۔
سرگودھا شہر میں منتہیٰ نے آنکھ کھولی تو خود کو ایک عورت کی گود میں پایا۔۔ اسکے باپ کو کسی نے پژمردہ سے لہجے........
