Nizam Nahi, Niyat Ka Bohran
نظام نہیں، نیت کا بحران
1965ء میں سنگاپور نے ملائیشیا سے علیحدگی اختیار کی تو دنیا نے اس نومولود ریاست کے بارے میں ایک ہی پیش گوئی کی تھی: "یہ ملک زیادہ دیر زندہ نہیں رہے گا"۔ اس کی وجہ بھی موجود تھی۔ سنگاپور کے پاس نہ تیل تھا، نہ گیس، نہ سونا، نہ زرخیز زمین، نہ میٹھے پانی کے ذخائر، نہ بڑی فوج، نہ وسیع منڈی۔ یہاں تک کہ پینے کا پانی بھی اسے دوسرے ملک سے خریدنا پڑتا تھا۔
اس نازک موقع پر سنگاپور کے پہلے وزیر اعظم لی کوان یو نے اپنی کابینہ کا اجلاس بلایا۔ ایک وزیر نے کہا، "سر! ہمیں سب سے پہلے اپنا نظام بدلنا چاہیے، کیونکہ موجودہ نظام ہماری ضروریات پوری نہیں کر سکتا"۔
لی کوان یو نے جواب دیا، "نظام بعد میں بدلے گا، پہلے انسان بدلیں گے۔ اگر نیت صاف ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو اور میرٹ پر سمجھوتہ نہ ہو تو عام سا نظام بھی قوموں کو عظیم بنا دیتا ہے، لیکن اگر نیت خراب ہو تو دنیا کا بہترین نظام بھی قبرستان بن جاتا ہے"۔
آج سنگاپور دنیا کی کامیاب ترین ریاستوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے ادارے مضبوط ہیں، معیشت مستحکم ہے اور پاسپورٹ دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس میں شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سنگاپور نے کوئی نیا نظام ایجاد کیا تھا؟ نہیں۔ اس نے صرف اپنے نظام کو دیانت داری سے چلایا تھا۔
چند روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا، "یہ سسٹم نہیں چل رہا، یہ سسٹم کولیپس کر چکا ہے"۔
لیکن یہاں ایک سوال ہے کہ کیا واقعی پاکستان کا مسئلہ نظام ہے؟ میرا جواب ہے، نہیں۔
پاکستان کا مسئلہ نظام نہیں، نیت ہے۔
ہم ایک ایسی قوم ہیں جو ہر ناکامی کے بعد آئینہ دیکھنے کے بجائے آئین کو قصوروار ٹھہرا دیتی ہے۔ ہم ہر بحران کے بعد خود احتسابی کرنے کے بجائے نظام بدلنے کی بات شروع کر دیتے ہیں۔
پاکستان کو قائم ہوئے اناسی برس ہو چکے ہیں۔ اگر دنیا میں کوئی ملک ایسا ہے جس نے تقریباً ہر طرزِ حکومت کا تجربہ کیا ہے تو وہ پاکستان ہے۔
ہم نے گورنر جنرل کے مضبوط اختیارات بھی دیکھے۔
ہم نے آئین کے بغیر ریاست بھی چلائی۔ ہم نے ون یونٹ بھی بنایا۔ ہم نے صدارتی نظام بھی آزمایا۔ ہم نے سول مارشل لا بھی دیکھا۔ ہم نے چار فوجی آمروں کے مارشل لا بھی برداشت کیے۔ ہم نے پارلیمانی جمہوریت بھی دیکھی۔ ہم نے مخلوط حکومتیں بھی دیکھیں اور ایک جماعت کی حکومتیں بھی۔
آخر کون سا نظام رہ گیا ہے جس کا تجربہ ہم نے نہیں کیا؟ اگر ہر نظام ناکام ثابت ہوا تو کیا واقعی خرابی ہر نظام میں........
