menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dharti Ka Nahi, Iqtidar Ka Masla Hai

43 0
13.09.2026

دھرتی کا نہیں، اقتدار کا مسئلہ ہے

1952ء میں ہندوستان کے ایک شخص پوٹی سری راملو نے الگ ریاست کے مطالبے پر بھوک ہڑتال شروع کی۔ وہ 58 دن بعد دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی موت کے بعد احتجاج نے آندھرا پردیش کو جنم دیا اور پھر بھارت نے ریاستوں کی تنظیمِ نو شروع کر دی۔ 1956ء میں زبان، ثقافت اور انتظامی ضرورت کے تحت ریاستوں کی نئی سرحدیں بنیں۔ بعد میں مزید ریاستیں بنتی رہیں۔ آج بھارت میں 28 ریاستیں اور 8 یونین ٹیریٹریز ہیں۔ یہ وہی بھارت ہے جو 1947ء میں آزاد ہوا تھا اور آزادی کے وقت اس کے 9 صوبے تھے۔

اب ذرا پاکستان کو دیکھیے۔ ہم 1947ء میں آزاد ہوئے، آبادی کئی گنا بڑھ گئی، شہر کئی گنا پھیل گئے، سڑکیں، معیشت، آبادی اور انتظامی ضروریات بدل گئیں، مگر ہمارے صوبے آج بھی تقریباً وہیں کھڑے ہیں۔

بھارت نے انتظامی نقشہ بدل کر ملک نہیں توڑا، اس نے انتظام کو عوام کے قریب کیا۔ افغانستان کے 34 صوبے ہیں، ایران کے 31 صوبے ہیں، امریکہ کی 50 ریاستیں ہیں۔ ملائیشیا کے 13 ریاستی یونٹس کے ساتھ 3 وفاقی علاقے ہیں، جبکہ انڈونیشیا 38 صوبوں میں تقسیم ہے اور اس کے ہزاروں جزائر ہیں۔ انڈونیشیا کے سرکاری معلوماتی پلیٹ فارم کے مطابق ملک میں 17 ہزار سے زیادہ جزائر ہیں۔

اور دنیا میں باقاعدہ صوبوں کی تعداد کے اعتبار سے فلپائن کا نام سب سے نمایاں ہے۔ اس کے آج 82 صوبے ہیں۔ فلپائن کی سرکاری شماریاتی اتھارٹی بھی 82 صوبوں کی تصدیق کرتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں چار صوبوں سے زیادہ صوبوں کی بات آتے ہی ایسا کیوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے پاکستان کا نقشہ نہیں، پاکستان کی بنیادیں ہلنے والی ہیں؟ اصل میں صوبہ زمین کا ٹکڑا نہیں، انتظامی اکائی ہوتا ہے۔

پنجاب کو دیکھیے۔ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی 12 کروڑ 76 لاکھ 88 ہزار 922 ہے۔

دنیا میں تقریباً 195 خودمختار ممالک ہیں۔ موجودہ عالمی آبادی کے اعداد و شمار میں بھارت، چین، امریکہ، انڈونیشیا، پاکستان، نائیجیریا، برازیل، بنگلہ دیش، روس، ایتھوپیا اور میکسیکو ہی ایسے ممالک ہیں جن کی آبادی پنجاب سے زیادہ ہے، جاپان بھی تقریباً 12 کروڑ 31 لاکھ کے ساتھ پنجاب سے پیچھے ہے۔ چنانچہ تقریباً 184 ممالک ایسے ہیں جن کی آبادی پنجاب سے کم ہے۔

پھر ہم یہ سوال کیوں نہیں کرتے کہ کیا بارہ کروڑ سے زیادہ انسانوں کو ایک ہی صوبائی حکومت کے ذریعے چلانا انتظامی........

© Daily Urdu