Wukla Hartaalen Aur Aeeni Adalat Ka Faisla
وکلاء ہڑتالیں اور آئینی عدالت کا فیصلہ
وفاقی آئینی عدالت نے جسٹس عامر فاروق کا تحریر کردہ تاریخ ساز تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کالوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ ہڑتالیں سائلین کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہیں۔ سائلین کو اپنے مقدمات کے فیصلوں کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ چاہے وکلاء کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، یہ مسئلے کا حل نہیں۔ انصاف تک رسائی سے کسی بھی شکل میں محروم کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
یاد رہے خیبر پختونخوا وکلاء تنظیموں نے ایک وکیل کے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم ایس ایچ او کی قانونی نمائندگی سے وکلاء کو روکا اور ملزم کی نمائندگی کرنے پر ایک وکیل کا لائسنس معطل کر دیا۔ متاثرہ وکیل نے لائسنس کی معطلی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے لائسنس کی بحالی کا فیصلہ دیا، جسے آئینی عدالت نے بھی برقرار رکھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے کے آغاز میں دو انتہائی اہم سوالات کا تذکرہ کیا، جو آج ہر پاکستانی شہری کے لیے غیر معمولی........
