Hafizabad Ko University, Sheikhupura Mehroom Kyun?
حافظ آباد کو یونیورسٹی، شیخوپورہ محروم کیوں؟
پنجاب اسمبلی میں "دی یونیورسٹی آف حافظ آباد بل 2026" کی پیش رفت ایک خوش آئند خبر ہے۔ اس قانون سازی کے تحت حافظ آباد میں ایک سرکاری یونیورسٹی کے قیام کی راہ ہموار ہو رہی ہے، جو یقیناً ضلع کے نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ ایک پاکستانی اور خصوصاً پنجاب کے شہری کی حیثیت سے اس پیش رفت پر خوش ہونا فطری ہے، لیکن اسی لمحے بطور شیخوپورہ کے باسی، ایک سوال دل میں جنم لیتا ہے کہ آخر شیخوپورہ جیسے بڑے، تاریخی اور معاشی اعتبار سے اہم ضلع کو آج تک اپنی سرکاری یونیورسٹی کیوں نصیب نہ ہوسکی؟
یہ سوال محض ایک ضلع کے ساتھ ہمدردی کا نہیں بلکہ تعلیمی منصوبہ بندی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا بھی ہے۔ حافظ آباد کو ضلع کا درجہ 1993ء میں ملا جبکہ شیخوپورہ 1922ء سے ایک مستقل ضلع کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو شیخوپورہ نہ صرف حافظ آباد بلکہ پنجاب کے کئی اضلاع سے زیادہ قدیم انتظامی شناخت رکھتا ہے۔ مغل بادشاہ جہانگیر نے 1607ء میں اس شہر کی بنیاد رکھی۔ ہرن مینار اور شیخوپورہ قلعہ آج بھی اس عظیم تاریخ کے گواہ ہیں۔ یہی شہر بعد ازاں برطانوی دور میں ضلع بنا اور آج پنجاب کے اہم ترین صنعتی اور تجارتی مراکز میں شمار ہوتا........
