Khalai Nigrani Aur Nai Jangi Bisat
خلائی نگرانی اور نئی جنگی بساط
مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی تزویراتی بساط پر ایک نئی تہہ اُس وقت نمایاں ہوئی جب برطانوی جریدے کی ایک تحقیق نے یہ دعویٰ کیا کہ ایران نے خاموشی کے ساتھ چین سے ایک ایسا سیٹلائٹ حاصل کیا جو محض خلائی نگرانی کا آلہ نہیں بلکہ ایک مکمل انٹیلیجنس پلیٹ فارم ہے۔ اس انکشاف نے نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ عالمی سیاست میں ٹیکنالوجی کے کردار کو بھی ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بظاہر یہ معاملہ ایک تکنیکی خریداری کا ہے، مگر اس کے اندر سفارتی نزاکت، عسکری حکمتِ عملی اور عالمی طاقتوں کی مسابقت کے کئی پرت در پرت پہلو پوشیدہ ہیں۔
مبینہ طور پر "TEE-01B" نامی یہ سیٹلائٹ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے زیرِ استعمال آیا اور اسے ایسے وقت میں فعال کیا گیا جب خطہ پہلے ہی کشیدگی کی لپیٹ میں تھا۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ سیٹلائٹ صرف تصاویر لینے تک محدود نہیں بلکہ اس کی مدد سے زمینی اہداف کی مسلسل نگرانی، نقل و حرکت کی ٹریکنگ اور حملوں سے قبل و بعد کی صورتحال کا تقابلی جائزہ ممکن بنایا گیا۔ اگر یہ دعویٰ درست تسلیم کر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران نے روایتی عسکری ذرائع سے ہٹ کر ایک ایسی "آنکھ" حاصل کر لی ہے جو ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھ کر بھی دشمن کی حرکات کو نہ صرف دیکھ سکتی ہے بلکہ ان پر فوری ردعمل کی راہ بھی ہموار کرتی........
