menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naye Intizami Unit

14 0
previous day

تاریخ کے افق پر بعض لمحے ایسے طلوع ہوتے ہیں جب قوموں کی تقدیر کا فیصلہ میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ ایوانِ تدبیر میں ہوتا ہے۔ شمشیریں نیاموں میں رہتی ہیں، فصیلیں اپنی ہیبت برقرار رکھتی ہیں، پرچم اپنی جگہ لہراتے رہتے ہیں، مگر ریاست کی روح خاموشی سے ایک ایسے اضطراب میں مبتلا ہو جاتی ہے جسے نہ توپوں کی گھن گرج چھپا سکتی ہے اور نہ خطابت کی بلند آہنگ صدائیں۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب عمارتیں قائم رہتی ہیں مگر بنیادیں تھک جاتی ہیں، قوانین موجود ہوتے ہیں مگر ان میں عدل کی حرارت باقی نہیں رہتی اور اقتدار کے ایوان آباد ہوتے ہیں مگر ان کے اندر تدبیر کی وہ روشنی بجھنے لگتی ہے جو قوموں کی کشتی کو طوفانوں سے نکال کر ساحلِ مراد تک پہنچایا کرتی ہے۔ اسی حقیقت کی طرف کتابِ الٰہی نے نہایت بلیغ اسلوب میں اشارہ فرمایا کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے باطن کو بدلنے کا عزم نہ کرے۔ گویا تاریخ کا پہیہ تلوار سے پہلے کردار اور نظام کے ہاتھوں گردش کرتا ہے۔

ایسے میں اگر خود اہلِ اقتدار کی زبان سے یہ اعتراف صادر ہو کہ ریاستی مشینری کا بیشتر وقت صرف بحرانوں کی آگ بجھانے میں صرف ہو رہا ہے، تو یہ کسی ایک حکومت کی کمزوری نہیں بلکہ پورے نظمِ حکمرانی کی ساختی تھکن کا اعلان ہوتا ہے۔ بحرانوں کا تعاقب حکمت نہیں، مجبوری کی علامت ہے۔ مدبر قومیں حادثات کا انتظار نہیں کرتیں بلکہ ان اسباب کو ختم کرتی ہیں جن سے حادثات جنم لیتے ہیں۔ جب ریاست ہر صبح........

© Daily Urdu