Mazhabi Nargasiat
تہذیبی زوال کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں ہوتا کہ سچ مٹ جاتا ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ سچائی کو سہولت پسندی کے سانچے میں ڈھال کر ایک بے ضرر متبادل فراہم کر دیا جاتا ہے۔ انسانی نفسیات جب بھی اخلاقی کایا پلٹ کے کسی کٹھن مرحلے سے گزرتی ہے، تو معاشرتی جبر، خاندانی مفادات اور روایتی فکر کا ایک پورا نیٹ ورک متحرک ہو کر اسے روکنے کی تگ و دو شروع کر دیتا ہے۔ سچائی اور دیانت کی پاداش میں جب ایک متمول فرد اپنے ناجائز اثاثوں اور علامتی فرعونیت سے دستبردار ہونے لگتا ہے، تو مروجہ نظام اسے "حق پرست" تسلیم کرنے کے بجائے "دماغی مریض" قرار دے کر نفسیاتی معالج کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔
یہ معالج دراصل اس بیمار سماج کا نمائندہ ہے جو مذہب کے جوہر یعنی ایثار، عدل اور کبر کی نفی کو ایک "ناممکن نصب العین" قرار دے کر رد کر دیتا ہے اور اس کے متبادل کے طور پر مناسک کی وہ ظاہری شکلیں تجویز کرتا ہے جو نہ تو سرمایہ دارانہ نظام کو ضرب پہنچاتی ہیں اور نہ ہی انسان کے باطنی غرور کو چیلنج کرتی ہیں۔ یوں، ضمیر کی وہ خلش جو انسان کو ایک انقلابی تبدیلی کی طرف لے جا سکتی تھی، اسے چند گولیوں،........
