menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Universities Mein Tarjuma Quran Ki Tadrees: Sawal o Khadshat

35 0
06.10.2026

یونیورسٹیوں میں ترجمہ قرآن کی تدریس: سوالات و خدشات

دو سال قبل ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں کی مختلف ڈگری کلاسز کے لیے "انڈرسٹینڈنگ آف قرآن" کے نام سے ایک باقاعدہ کورس متعارف کروایاتھا۔ اس کورس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ طلبہ اپنی متعلقہ ڈگری کے ساتھ قرآن فہمی کی بنیادی صلاحیت بھی حاصل کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے آٹھ جلدوں پر مشتمل ایک نصاب مرتب کیا گیاتھا جسے یونیورسٹیوں میں شامل کرنے کے لیے باقاعدہ ہدایات اور نوٹیفکیشن جاری کیے گئے تھے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ عملی طور پر اس کے نتائج کیا سامنے آرہے ہیں؟ کیا طلبہ واقعی قرآن فہمی کے اہل ہو رہے ہیں؟ کیا نسل نو اس نصاب کے ذریعے قرآن کے قریب آرہی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ طریقہ تدریس انہیں قرآن کے قریب کرنے کے بجائے دورکرنے کا سبب بن رہا؟ کیا یہ نصاب طلباء کو ایک اضافی تعلیمی بوجھ محسوس ہورہا ہے؟ کیا زبان سکھانے کے لیے وضع کیا گیا ایک طریقہ قرآن فہمی جیسے پیچیدہ علمی عمل کے لیے بھی اتنا ہی مؤثر ثابت ہو رہاہے؟

دنیا میں زبان سیکھنے کے دو معروف طریقے رائج ہیں، ڈائریکٹ میتھڈاور اِن ڈائریکٹ میتھڈ ڈائریکٹ میتھڈمیں زبان کو اسی زبان کے ذریعے سمجھایا اور سکھایا جاتا ہے۔ ترجمہ کم سے کم کیا جاتا ہے۔ طالب علم الفاظ، جملوں، گفتگو، سماعت اور عملی مشق کے ذریعے زبان سیکھتا ہے۔ مثلاً انگریزی سکھاتے ہوئے استاد اردو میں معنی بتانے کے بجائے انگریزی کتاب دکھا کر کہتا ہے This is a bookیوں طالب علم........

© Daily Urdu