Eid Ki Chuttiyan Aur Tehzeebi Shaoor Ka Sawal
عید کی چھٹیاں اور تہذیبی شعور کا سوال
عید کیلنڈر پر درج صرف ایک سرکاری تاریخ یا محض ایک تعطیل کا نام نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی احساس، روحانی کیفیت اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکرکے اظہار کا نام ہے۔ اسی لیے جب ہم عید الفطر اور عید الاضحی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں انہیں صرف ایک تہوار کے طور پر نہیں بلکہ اس دینی اور تہذیبی پس منظر میں سمجھنا چاہیے جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیمات اور سنت کے ذریعے امت کے سامنے واضح فرمایا۔ اسلام نے انسانی فطرت کا احترام کرتے ہوئے خوشی اور مسرت کے اظہار کو عین عبادت قرار دیا۔
اسلام نے خوشی منانے کے فرسودہ اور پراگندہ طریقوں کو پاکیزگی، شکر اور بندگی کے سانچوں میں ڈھال دیا ہے۔ اس لیے عیدین محض ثقافتی سرگرمیاں نہیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ مذہبی خوشیاں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے عید ین کے دن نہ صرف خوشی کے اظہار کا حکم دیا بلکہ عیدین کے دن روزہ رکھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ اس ممانعت میں ایک بڑا پیغام پوشیدہ ہے، وہ یہ کہ اسلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ عبادت کا بھی ایک وقت مقررہے اور نعمت پر خوش ہونے کا بھی ایک وقت ہے۔ ہر وقت ریاضت، ہر لمحہ مشقت اور ہر حال میں خود کو تنگی میں رکھنا اسلام کا مزاج نہیں ہے۔
عید الاضحی کے معاملے میں تو رسول اللہ نے خصوصی تاکید فرمائی، فرمایا یوم عرفہ، یوم النحر اور ایامِ تشریق اہلِ اسلام کے لیے عید کے دن ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔ رسول اللہ کے یہ الفاظ کوئی معمولی الفاظ نہیں بلکہ ان میں ایک مکمل تصورِ عید پوشیدہ ہے۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عید الاضحی کا تصور اتنا وسیع اور جامع ہے تو بحیثیت اسلامی جمہوریہ پاکستان ہماری ریاستی اور حکومتی ترجیحات میں اس تصور کی نمائندگی کیوں نظر نہیں آتی۔ بجا کہ........
