menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naqqash Bhai Ki Naqqar Khane Mein Awaz

29 0
25.04.2026

نقاش بھائی کی نقار خانے میں آواز

گذشتہ روز ہمارے دوست نقاش عباسی اقبالین نے اپنے پیج پہ ایک تیکھا مگر چونکا دینے والا جملہ تحریر کیا۔ موضوع پنجاب کی ایک بڑی سیاسی شخصیت کے بھائی کی مبینہ مداخلت تھا، جو خود بغیر کسی عوامی یا آئینی عہدے کے ضلع مری کے مختلف اداروں میں اثرانداز ہوتے اور ترقیاتی امور نمٹاتے نظر آتے ہیں، جو درحقیقت منتخب نمائندوں کا کام ہے۔ اس تحریر پر آنے والے تبصروں نے نقاش کو یہ کہنے پہ مجبور کر دیا کہ منجھے ہوئے اور پرانے سیاسی لوگ بھی اس سکہ رائج الوقت نظام کو قبول کئے ہوئے ہیں تو تبدیلی کہاں سے آئے گی۔

اس بحث نے بہرحال ایک پرانا مگر تلخ سوال دوبارہ زندہ کر دیا۔ پہلا یہ کہ کیا واقعی ہمارے ہاں اختیار اُن کے پاس ہے جنہیں عوام منتخب کرتے ہیں، یا کہیں اور سے ڈوریں ہلتی ہیں؟ اور دوسرا یہ کہ کیا ترقیاتی منصوبوں کو prioritize کرنے اور ان کے حقیقی اور دور رس نتائج بھانپنے کا نظام درست ہے۔ پہلے سوال کا جواب ہاں میں ہے اور دوسرے کا نفی میں ہے، جب کہ ہونا اس کے الٹ چاہیے تھا۔

پچھلے سال میں نے اپنے ہم زلف کے چھوٹے بھائی فیصل کا ٹورونٹو میں کامیاب بزنس ماڈل دیکھا جو بنیادی طور پہ بلڈر ہے اور متعدد ہاؤسنگ یونٹس بنا کے بیچ چکا ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہ مسی ساگا میں اپنے سادہ سے دفتر میں محض چند ایک مخلص پارٹنرز کے اور مختصر ٹیم کے ہمراہ بڑے پیمانے پہ تعمیرات کا کام کر رہا ہے، مگر اصل بات جو میں نے نوٹ کی وہ یہ تھی کہ ہر تعمیراتی منصوبے کی منظوری کے لئے انھیں کونسل سے منظوری کے لیے........

© Daily Urdu