Shirk (1)
ابھی تک میں نے صرف توحید کی بات کی ہے اب میں توحید کی مخالفت کی بات کرتا ہوں۔ انسانی ذہن میں کسی چیز کا صحیح تصور اس وقت تک واضح نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے مخاف تصور کو بھی ذہن میں جگہ نہ دی جائے۔ اس اصول کے مطابق عقیدہ توحید کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے اس کے متضاد نظریہ یعنی شرک کو بھی ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلمہ طیبہ میں توحید کا اثبات اور شرک کی نفی دونوں ساتھ موجود ہیں یعنی یوں نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اکیلا معبود ہے بلکہ یوں فرمایا کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ تعالیٰ کے۔
شرک کے لفظی معنی ساجھے پن کے ہیں اور شریعت اسلام کی اصطلاح میں شرک نام ہے اس بات کا کہ اللہ تعالی کی ذات یا اس کی صفات یا ان صفات کے لازمی تقاضوں میں کسی کو اس کا ساجھی ٹھرایا جائے۔ گویا شرک کی تین قسمیں ہیں۔
پہلی قسم کے شرک کی عملی صورتیں یہ ہیں کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہم جنس قرار دیا جائے یا کسی کو اللہ تعالیٰ کا باپ یا بیٹا سمجھ لیا جائے کہ وہ کسی اور ہستی صفات الہٰی کے جو لازمی تقاضے ہیں انہیں اللہ........
