Chor Ke Puttar Danishwar
امریکہ اور یورپی ممالک میں آج تو صہینویت کو للکارنا، اسرائیل کی مخالفت کرنا کافی حد تک آسان ہوگیا ہے۔ اس کے خلاف نظریاتی اور فکری سطح پر لڑنا اتنا مشکل نظر نہیں آتا جتنا مشکل یہ بیسویں صدی کے اندر نظر آتا تھا۔ پچاس سے نوے تک کی دہائی میں یورپی ممالک اور امریکہ کے قلب میں بیٹھ کر دانشور حلقوں میں، جامعات کے اندر، پریس میں اس بارے میں لکھنا مشکلات کو دعوت دینے کے مترادف تھا اور ایک ایسے شخص کے لیے جو عرب یا خود فلسطین سے مہاجر ہو کر امریکی سماج میں آیا ہوتا اس کے لیے تو یہ اور بہت مشکل کام تھا۔
اس دشوار اور مصائب سے بھرے ماحول میں ایڈورڈ سعید نے فلسطینی نژاد مہاجر امریکی اور اقبال احمد نے پاکستانی نژاد مہاجر امریکی ہوکر مغرب کی صہیونیت پرستانہ غالب ڈسکورس کو چیلنج کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ ایڈورڈ سعید نے تو یہ کام کہیں بڑے پیمانے پر سرانجام دیا۔ انھوں نے عالمی سرمایہ دارانہ سامراجیت کے مشرقی اقوام بشمول عرب کے بارے میں بنائے گئے ڈسکورس، نظام دانش کو علمی و فکری بنیادوں پر چیلنج کیا۔ ان کی کتابیں "اورئنٹل ازم" اور "کلچر و امپریلزم" مغربی نظام دانش، اس کی پوری علمیات کے ڈھانچے کو زبردست چیلنج سے دوچار کر گئیں۔ انھوں نے مغربی میڈیا کے پورے ڈسکورس کو ننگا کرکے رکھ دیا اور اس مرعوبیت کا خاتمہ کیا جس کے شکار خود نوآبادیاتی اقوام کی غالب دانش نظر آتی تھی۔
ایڈورڈ سعید کا صرف یہ کارنامہ نہیں تھا کہ انھوں نے نوآبادیاتی دور میں مغرب کی نام نہاد روشن خیالی، عقلیت پسندی، مہذب اور ترقی کے سامراجی، نوآبادیاتی علمی ڈسکورس کو بے نقاب کیا بلکہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد مغرب کی جانب سے جو تہذیبوں کے تصادم، دہشت گردی مخالفت کے نام پر جو اسلامو فوبیا ڈاکٹرائن متعارف کرائی گئی انھوں نے اس کا پردہ بھی فاش کیا۔ انھوں نے عرب اور ایشیائی ممالک میں نیولبرل ازم کے حامیوں کی استعمار سے تعاون اور استعمار سے امن کی لگائی جانے والی جو امید تھی اس کے کھوکھلے پن کو اچھے سے بے نقاب کیا۔
نائن الیون سے پہلے اور نائن الیون کے بعد عرب اور جنوبی ایشیا میں سابق کمیونسٹوں، سابق قوم پرستوں، سابق پاپولسٹ سیاسی جماعتوں کی قیادت اور ان سے جڑے دانشوروں کی اس خوش فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی کہ وہ مغربی اور امریکی حکومتوں کے تعاون اور مدد سے مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا میں امن قائم کر سکتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے شخص تھے جنھوں نے اوسلو امن معاہدے کو ایک عظیم فریب اور بہت بڑا دھوکہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے صاف اور دو ٹوک الفاظ........
