menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aurat Ki Azadi: Kuch Naye Zawiye

17 0
14.05.2026

عورت کی آزادی: کچھ نئے زاویے

عورت مارچ کراچی کے تناظر میں ہمارے حلقہ دوستاں میں باہم بحث و مباحثے میں کچھ ایسے نکات سامنے لائے گئے جنھیں میں نے اس موضوع پر بحث کے دوران سوشل میڈیا پر بحث کا مرکزی نکتہ بنتے نہیں دیکھا۔ میں انھیں یہاں پیش کر رہا ہوں:

لبرل سیاسی فکر میں معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک "گھر" یا خاندانی دائرہ اور دوسرا "سول سوسائٹی" یعنی وہ عوامی دنیا جہاں سیاست، قانون، حقوق، ملازمت، عدالت اور شہری زندگی موجود ہوتی ہے۔

لبرل فکر یہ فرض کرتی ہے کہ گھر ایک "فطری" جگہ ہے۔ یعنی جیسے مرد، عورت، خاندان اور بچوں کے تعلقات ہمیشہ سے ایسے ہی تھے اور ان میں سیاست یا طاقت کا کوئی کردار نہیں۔ اسی لیے گھر کو "نجی" معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، سول سوسائٹی کو ایک سیاسی میدان سمجھا جاتا ہے جہاں ریاست لوگوں کو حقوق دیتی ہے، قانون نافذ ہوتا ہے اور انسان "شہری" یا "فرد" کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

اب مسئلہ عورت کے مقام سے پیدا ہوتا ہے۔ عورت کو اس سوچ میں "فطری طور پر" گھر کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ یعنی یہ تصور بنایا جاتا ہے کہ بچے پیدا کرنا، ان کی پرورش کرنا، کھانا پکانا، دیکھ بھال کرنا اور گھریلو محنت عورت کی "قدرتی ذمہ داری" ہے۔ حالانکہ یہ بھی ایک سماجی اور معاشی محنت ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جس گھر کو عورت کا "نجی دائرہ" کہا جاتا ہے، وہاں بھی عورت مکمل آزادی نہیں رکھتی۔ مرد مسلسل اس دائرے میں اختیار استعمال کرتا ہے۔ یعنی گھر حقیقت میں عورت کے لیے مکمل نجی یا آزاد جگہ نہیں بنتا۔

دوسری طرف، لبرل فکر میں "حقوق رکھنے والا مکمل فرد" وہی بنتا ہے جو سول سوسائٹی میں داخل ہو۔ چونکہ عورت کو پہلے ہی گھر کے اندر محدود کر دیا جاتا ہے، اس لیے وہ مکمل سیاسی و سماجی فرد کے طور پر تسلیم نہیں کی جاتی۔ اس کے مقابلے میں مرد دونوں جگہوں پر موجود ہوتا ہے: گھر میں وہ اختیار اور طاقت استعمال کرتا ہے، جبکہ عوامی دنیا میں وہ حقوق حاصل کرتا ہے۔

جب قوم پرستانہ تحریکوں میں عورت کو "قوم کی ماں"، "عزت"، "ثقافت" یا "وطن کی علامت" بنا کر پیش کیا جاتا ہے، تو یہ تصور عورت کو مزید گھر اور نجی دائرے کے ساتھ باندھ دیتا ہے یا اسے سیاسی طاقت بھی دیتا ہے؟ یعنی عورت کی یہ علامتی تصویر آزادی پیدا کرتی ہے یا ایک نئے طریقے سے قید؟

مثال کے طور پر ہم نے دیکھا کہ بلوچ یک جہتی کمیٹی کی سرکردہ نوجوان خواتین کو بلوچ اور پشتون قوم پرست سیاسی رہنماؤں، ممتاز سرداروں اور یہاں تک کہ عام بلوچ مردوں نے بلوچی چادر پہنائی یا اس کا تحفہ دیا۔ یہ عمل کیا ظاہر کرتا ہے؟

اس عمل کو محض ایک ثقافتی احترام یا روایتی اعزاز کے طور پر دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ مارکسی، فیمینسٹ اور ثقافتی سیاسی تناظر میں یہ ایک نہایت پیچیدہ علامتی عمل ہے، جس کے اندر قبولیت، ضبط، اخلاقی جواز اور طاقت کے کئی پرت دار رشتے موجود ہوتے ہیں۔

جب بلوچ سردار، سیاسی رہنما یا عام مرد Baloch Yakjehti Committee کی سرکردہ خواتین کو بلوچی چادر اوڑھاتے ہیں تو بظاہر یہ عمل عزت، حمایت، قومی وابستگی اور ثقافتی شناخت کے اعتراف کے طور پر پیش آتا ہے۔ چادر یہاں صرف کپڑا نہیں رہتی بلکہ بلوچ روایت، وقار، غیرت اور قومی شناخت کی علامت بن جاتی ہے۔ اس معنی میں یہ عمل گویا یہ پیغام دیتا ہے کہ: "یہ عورتیں اب بلوچ قومی مزاحمت اور اجتماعی شناخت کا قابلِ احترام حصہ ہیں"۔

لیکن تنقیدی نظریاتی زاویے سے دیکھا جائے تو اس میں طاقت کا ایک باریک عمل بھی شامل ہوتا ہے۔ کیونکہ چادر اوڑھانے والا اکثر مرد ہوتا ہے اور وہی عورت کو "عزت"، "قبولیت" یا "قومی تقدیس" عطا کرنے کا علامتی اختیار symbolic authority اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ یوں عورت کی سیاسی موجودگی کو ایک ثقافتی و اخلاقی فریم میں جذب کیا جاتا ہے۔ یعنی عورت بطور خودمختار سیاسی فاعل subject کم اور "بلوچ روایت کی باوقار بیٹی/بہن" زیادہ بنا دی جاتی ہے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا عورت اپنی سیاسی کردار یا اختیار agency کے ساتھ قبول کی جا رہی ہے، یا اسے روایت کے اندر دوبارہ "قابلِ قبول" بنایا جا رہا ہے؟

مارکسی فیمینسٹ تنقید کہے گی کہ قوم پرستانہ اور قبائلی سماج اکثر عورت کی مزاحمت کو مکمل آزادی کے طور پر قبول نہیں کرتے، بلکہ اسے ثقافتی علامتوں کے ذریعے مقامیانے domesticate کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چادر اوڑھانا ایک طرف عزت افزائی ہے، لیکن دوسری طرف یہ عورت کی سیاسی موجودگی کو "روایت"، "حیا"، "قومی غیرت" اور "اخلاقی پاکیزگی" کے ساتھ مشروط بھی کر سکتا ہے۔

گویا پیغام یہ بنتا ہے: "آپ سیاسی کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن بلوچ روایت کی مقرر کردہ حدود کے........

© Daily Urdu