menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Falkiyat Ki Tareekh (8)

33 0
11.10.2026

تقریباً 1894 قبل مسیح میں میسوپوٹیمیا کی تاریخ نے ایک اور اہم موڑ لیا۔ دریائے فرات کے کنارے آباد ایک نسبتاً چھوٹا شہر، بابل، آہستہ آہستہ طاقت حاصل کرنے لگا۔ ابتدا میں اس کی حیثیت دوسرے شہروں جیسی ہی تھی، لیکن چند نسلوں کے اندر یہ پورے خطے کا سیاسی اور علمی مرکز بنتا چلا گیا۔ فلکیات کی تاریخ میں بھی بابل کا نام اس مقام سے نمایاں ہونا شروع ہوتا ہے، کیونکہ آنے والی کئی صدیوں میں یہی شہر دنیا کے اہم ترین فلکی مراکز میں شمار ہونے لگا۔

تقریباً 1792 قبل مسیح میں حمورابی بابل کا بادشاہ بنا۔ آج اس کا نام زیادہ تر اس کے مشہور ضابطۂ قوانین کی وجہ سے لیا جاتا ہے، لیکن اس کے دور میں ایک اور تبدیلی بھی ہوئی۔ بابل نے آس پاس کی کئی ریاستوں کو اپنے زیرِ نگیں کر لیا، جس کے نتیجے میں مختلف شہروں میں محفوظ علمی ریکارڈ ایک ہی ریاست کے دائرے میں آ گئے۔ اس سے فلکی مشاہدات کی روایت کو بھی استحکام ملا، کیونکہ اب........

© Daily Urdu